1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

9/11 کے بعد پاکستان کو شدید بمباری کی دھمکی ملی تھی

جمعرات کو امریکی ٹیلی وژن چینل CBS کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ امریکہ پر گیارہ ستمبر سن 2001ء کے دہشت پسندانہ حملوں کے بعد امریکی حکومت نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر اُس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہ دیا تو اُسے شدید بمباری کرتے ہوئے پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا جائے گا۔ ”60 منٹ“ نامی پروگرام میں لیا گیا یہ انٹرویو مکمل شکل میں آئندہ اتوار کے روز نشر کیا جائے

امریکہ اور پاکستان کے صدور مارچ 2006ء میں بش کے دَورہء پاکستان کے موقع پر

امریکہ اور پاکستان کے صدور مارچ 2006ء میں بش کے دَورہء پاکستان کے موقع پر

گا۔

مشرف نے اپنے اس انٹرویو میں بتایا کہ یہ دھمکیاں اُس وقت کے نائب امریکی وزیر خارجہ رچرڈ آرمی ٹیج کی جانب سے پاکستانی سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر کو پہنچائی گئی تھیں۔ ” سیکرٹ سروس کے ڈائریکٹر نے مجھے بتایا کہ آرمی ٹیج نے کہا ہے: ’ بمباری کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہو۔ واپس پتھر کے زمانے میں پہنچنے کے لئے تیار رہو۔“ مشرف نے کہا کہ یہ بیان شرم ناک اور نامناسب تھا۔

پاکستانی صدر نے کہا کہ اُنہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنا پڑے، جو ملک و قوم کے مفاد میں تھے۔ CBS کے مطابق Armitage نے متذکرہ الفاظ استعمال کرنے کی تردید کی ہے لیکن اس بات کی تردید نہیں کی کہ اُنہوں نے بہرحال فوری نوعیت کا کوئی پُر زور پیغام پہنچایا تھا۔

واضح رہے کہ نیویارک اور واشنگٹن پر دہشت پسندانہ حملوں سے پہلے اسلام آباد حکومت ہمسایہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ زبردست تعاون کر رہی تھی۔ پاکستان اُن چند ممالک میں سے ایک تھا، جنہوں نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رکھا تھا۔ تاہم گیارہ ستمبر کے بعد مشرف حکومت نے اپنی پالیسیوں کا رُخ یکسر تبدیل کر دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بن گیا۔

جمعہ 22 ستمبر کو پرویز مشرف واشنگٹن میں امریکی صدر جورج ڈبلیو بش کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔