1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

9 ججزکے خلاف نوٹس جاری

پاکستانی سپریم کورٹ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے 9 ججوں کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ان ججز پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

default

عدالت نے اس وقت کے صدر، وزیراعظم اور آرمی چیف کے خلاف توہین عدالت سے متعلق درخواست کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کو الگ سے ایک بینچ تشکیل دینے کی سفارش بھی کی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے پینتالیس دن تک 3 نومبر 2007ء کو جنرل مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت نے اس مقدمے کی ابتدائی سماعت مکمل ہونے کے بعد 26جنوری کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

بدھ کے روز سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 3 نومبر2007ء کو فوج اور دیگر حکومتی اداروں نے، جو اقدامات کیے تھے وہ سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے اُس فیصلے سے قبل اٹھائے گئے تھے، جس میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کی ممانعت کی گئی تھی۔

Asma Jahangir die Anwältin und Menschenrechtlerin aus Pakistan

اس سے قبل کسی بھی حاضر سروس ججوں کو اپنے ہی ساتھیوں کی جانب سے توہین عدالت کا مرتکب قرار دینے کی مثال نہیں ملتی، عاصمہ جہانگیر

سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر، جن ججوں کو نوٹس جاری کیے ہیں ان میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس زاہد حسین کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار حسین چوہدری، جسٹس شبر رضا رضوی، جسٹس حسنات احمد، جسٹس خورشید انور اور جسٹس ظفر اقبال کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس یاسمین عباسی اور پشاور ہائی کے جسٹس جاوید رحیم شامل ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس یاسمین عباسی کے وکیل بیرسٹر علی ظفرکے مطابق عدالت کا فیصلہ آ جانے کے بعد ان کے سامنے صرف دو راستے ہیں، جن کے تحت یا تو وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کریں گے یا پھر وہ سپریم کورٹ کے چار رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ ہی میں اپیل دائر کریں گے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر عاصمہ جہانگیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل کسی بھی حاضر سروس ججوں کو اپنے ہی ساتھیوں کی جانب سے توہین عدالت کا مرتکب قرار دینے کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جج کے خلاف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پرکارروائی مقصود ہوتواس کے لیے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں مقدمہ دائرکیا جانا چاہیے۔

پاکستان بار کونسل کے نمائندے اور سابق وزیر قانون ڈاکٹرخالد رانجھا کے مطابق اب سپریم کورٹ کے فیصلے سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوا ہے۔

Pakistan General Präsident Pervez Musharraf

ان 9 ججوں نےسابق صدر مشرف کے عبوری حکم نامے کے تحت حلف اٹھایا تھا

واضح رہے کہ ججوں کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران تمام وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت کسی بھی جج کے خلاف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پرکھلی عدالت میں مقدمے کی سماعت نہیں کی جا سکتی۔ اسی دوران بینچ میں شامل ججوں پر بھی متعدد اعتراضات کی درخواستیں کی گئیں۔ جس کے بعد بینچ کے پہلے سربراہ جسٹس ساحر علی نے خود کو اس مقدمے کی سماعت سے الگ کر لیا تھا۔ تاہم نئے بینچ کی تشکیل کے بعد ججوں پر اعتراضات سے متعلق تمام درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔

دریں اثناء قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی سی او ججوں کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد نئی قانونی موشگافیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM