1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

8.3 شدت کا زلزلہ، دس لاکھ افراد گھر بار چھوڑ گئے

امتیاز احمد17 ستمبر 2015

جنوبی امریکی ملک چلی کے ساحلی علاقوں کو آٹھ عشاریہ تین شدت کے ایک طاقتور زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکام نے متعدد افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے جبکہ ساحلی علاقوں سے پندرہ فٹ بلند طاقتور سمندری لہریں ٹکرائی ہیں۔

https://p.dw.com/p/1GXsX
Infografik Starkes Erdbeben in Chile ENG

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب حکومت نے سونامی لہروں سے بچنے کے لیے ساحلی علاقوں کے دس لاکھ سے زائد افراد کو اپنے گھر بار چھوڑتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف جانے پر مجبور کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سن دو ہزار دس جیسی صورتحال سے بچنا ہے۔ تب آنے والے زلزلے کے نتیجے میں حکومتی رد عمل سست تھا اور سونامی کی وجہ سے سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ مقامی میڈیا اور سرکاری حکام نے ابھی تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن ان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

چلی کے ساحلی شہر نویداد کی رہائشی ماریا انجلیکا کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ انتہائی مشکل صورتحال ہے۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھروں سے بھاگے ہیں اور اس پہاڑی پر آ کر بیٹھ گئے ہیں۔ امید ہے کہ یہ خطرہ جلد ہی ٹل جائے گا۔‘‘ اس خاتون کا مزید کہنا تھا، ’’ہر طرف اندھیرا ہے اور ہم امید کر رہے ہیں کہ سمندری پانی ابھی ہمارے گھر تک نہیں پہنچا ہو گا۔‘‘

Chile Erdbeben Santiago Los Vilos Evakuierung Autobahn Straße Stau
تصویر: Getty Images/AFP/M. Bernetti

بتایا جا رہا ہے کہ زلزلے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ساڑھے چار میٹر بلند سمندری لہروں کی وجہ سے ساحلی شہروں میں سیلاب کی سی صورتحال ہے۔ چلی کے وسطی علاقوں تک بجلی کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے جبکہ ساحلی علاقوں کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق فی الحال جانی اور مالی نقصان کا صحیح اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ تانبا پیدا کرنے والے ملک چلی کی خاتون صدر مشیل بیچلیٹ نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے، ’’ایک مرتبہ پھر ہمیں قدرت کے اس شدید دھچکے سے نمٹنا ہے۔‘‘ ملک کی تانبے کی دو بڑی کانوں میں جاری کام معطل کر دیا گیا ہے۔

چلی میں ابھی تک زلزلے کے آفٹر شاکس محسوس کیے جا رہے ہیں۔ وہاں موجود ایک شخص کارونی پریز کا کہنا تھا، ’’آج رات ہمارے لیے بہت طویل لگ رہی ہے۔‘‘یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی چلی میں شدید زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباﹰ پانچ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سن دو ہزار دس میں بھی چلی کو شدید زلزلے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ سو سے بھی زائد رہی تھی۔ لاطینی امریکا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک چلی میں اس سے قبل 1960ء میں گزشتہ دو سو برس کا شدید ترین زلزلہ آیا تھا جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 9.5 ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں چلی میں 1655افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی سونامی کی لہروں نے امریکی ریاست ہوائی، جاپان اور فلپائن تک کو متاثر کیا تھا۔