1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

81 ملین ڈالر کی چوری، بنگلہ دیشی مرکزی بینک کا گورنر مستعفی

اکیاسی ملین ڈالر کی آن لائن چوری کے بعد بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کا گورنر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گیا ہے۔ ہیکروں نے یہ رقم بنگلہ دیش کے ریزرو ذخائر سے چوری کی تھی اور ڈھاکا حکومت کے لیے یہ انتہائی شرمندگی کی بھی بات ہے۔

بنگلہ دیش کے وزیر مالیات اے ایم اے محیط نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مرکزی بینک کے گورنر عطیع الرحمان آج مستعفی ہو گئے ہیں، ’’انہوں نے مجھے گزشتہ روز کال کی تھی اور میں نے انہیں مستعفی ہونے کا کہا تھا۔ آج انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘

ہیکروں نے بنگلہ دیش کی وہ رقم چوری کی تھی، جو اس نے امریکا کے فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں رکھی ہوئی تھی۔ اس امریکی بینک میں بنگلہ دیشی حکومت نے اپنے ستائیس بلین ڈالر کے ریزرو رکھے ہوئے ہیں اور یوں یہ آن لائن چوری بنگلہ دیش کے فارن ریزروز کے حوالے سے بہت بڑا سکیورٹی الارم تھی۔

بنگلہ دیش بینک کے ڈپٹی گورنر کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہیکر تقریباﹰ ایک بلین ڈالر چوری کرنا چاہتے تھے لیکن صرف ٹائپنگ کی ایک غلطی کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

Federal Reserve Board Building - US Zentralbank

ہیکروں نے بنگلہ دیش کی وہ رقم چوری کی تھی، جو اس نے امریکا کے فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک میں رکھی ہوئی تھی

بنگلہ دیش مرکزی بینک کے مستعفی ہونے والے گورنر ایک ماہر اقتصادیات ہیں اور انہیں سن دو ہزار نو میں اس بینک کا گورنر بنایا گیا تھا جبکہ آئندہ اگست میں ان کی مدت ملازمت ختم ہو رہی تھی۔

وزیر مالیات اے ایم اے محیط کے مطابق گورنر سے اس وجہ سے بھی استعفیٰ لیا گیا ہے کیوں کہ وہ واحد شخص تھے، جنہیں ایک ماہ پہلے پانچ فروری ہی کو اس واقعے کا علم ہو چکا تھا۔ اتوار کے روز ان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کا مرکزی بینک انہیں ہر چیز کے بارے میں مطلع کرنے کا پابند ہے لیکن موجودہ گورنر مرکزی بینک نے ایسا نہیں کیا اور وہ اس کے خلاف اقدام کرنے جا رہے ہیں۔

اس اسکینڈل کی تفصیلات گزشتہ ہفتے اس وقت منظر عام پر آئی تھیں، جب چونسٹھ سالہ عطیع الرحمان بھارت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تھے اور ملک میں اس اسکینڈل کی وضاحت کے لیے سینٹرل بینک کے چھوٹے عہدیداروں کو چھوڑ گئے تھے۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق ہیکرز نے نیویارک بینک سے پیسے منتقل کرنے کی درجنوں کوششیں کیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہفتے اور اتوار کی چھٹیوں سے فائدہ اٹھایا، جب بینکوں کے مابین بات چیت کا فقدان ہوتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس طرح ہیکرز اکیاسی ملین ڈالر آن لائن چوری کرنے میں کامیاب ہوئے اور یہ کیش الیکٹرانک طریقے سے فلپائن کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ہیکرز مزید آٹھ سو پچاس ملین ڈالر چوری کرنا چاہتے تھے لیکن ٹائپنگ کی ایک غلطی کی وجہ سے بینک کے سکیورٹی سسٹم نے پیسوں کی منتقلی منسوخ کر دی تھی۔

رپورٹوں کے مطابق ہیکرز نے سری لنکا کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا نام غلط لکھ دیا تھا، جس سے سکیورٹی الارم متحرک ہو گیا تھا۔ بنگلہ دیش حکام کے مطابق کچھ رقم دوبارہ حاصل کر لی گئی ہے اور فلپائنی حکام نے عدالتی حکم نامے کے بعد وہ اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے ہیں، جن میں چوری شدہ رقم رکھی گئی ہے۔ اس کارروائی کے حوالے سے چینی ہیکروں پر شک کیا جا رہا ہے۔