1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

72 برس بعد بھی جوہری حملے کی کہانی سناتا ہیروشیما

جاپانی شہر ہیروشیما پر جوہری حملے کو 72برس مکمل ہو گئے ہیں، تاہم اس شہر کی فضا آج بھی ایٹمی حملے کی ایک اداس کہانی سنا رہی ہے، جس نے لاکھوں انسانوں کی جان لے لی تھی۔

اس بار جوہری حملے کی برسی ایک ایسے موقع پر منعقد ہو رہی ہے، جب جاپان میں ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق اب بھی دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں۔

گزشتہ ماہ دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے ایک بین الاقوامی معاہدے پر جاپان امریکا، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ کھڑا تھا، جنہوں نے یہ معاہدہ مسترد کیا۔ جاپانی موقف یہ ہے کہ شمالی کوریا جیسے ممالک سے لاحق خطرات کے پیشِ نظر ایسا کوئی معاہدہ قابل عمل نہیں ہو سکتا۔

جاپان دنیا کا وہ واحد ملک ہے، جسے جوہری حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سن 1945 میں امریکا نے پہلے ہیروشیما اور پھر ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔

ہیروشیما شہر میں ایٹم بم گرائے جانے کے مقام سے کچھ فاصلے پر قائم امن یادگاری پارک میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں جاپانی وزیراعظم شینزو آبے نے کہا کہ ان کا ملک دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک بنانے کے عزم پر کام کرتا رہے گا اور اس سلسلے میں وہ راستہ اختیار کیا جائے گا، جو تمام ممالک کو قابل قبول ہو،’’ہمارے لیے جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کا ہدف اہم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ہدف کے حصول کے لیے جوہری صلاحیت کے حامل اور دیگر ممالک سب مل کر کام کریں۔‘‘

Teilnehmer der Genkzeremonie anlässlich des 70. Jahrestages des Atombombenabwurfs von Hiroshima beten für die Opfer (Foto: dpa) (picture-alliance/dpa)

لمحوں میں ایٹم بم یہ پورا شہر نگل گیا

اپنی اس سالانہ یادگاری تقریر میں شینزو آبے نے مزید کہا، ’’ہمارا ملک دنیا کے تمام ممالک کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے لیے رضامند کرنے کے عزم پر کام کرتا رہے گا۔‘‘

جاپانی حکام نے اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک اور دیگر ممالک کے درمیان تقسیم میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات اہم ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے حامل نو ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس، چین، روس، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں پر پابندی کے بین الاقوامی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات میں حصہ ہی نہیں لیا تھا، جب کہ اس سلسلے میں ہونے والی رائے شماری میں بھی یہ ممالک شریک نہیں ہوئے تھے۔

جاپانی حکام کا موقف ہے کہ ایک طرف تو وہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہیں، تاہم دوسری جانب جاپان کی قومی سلامتی کو امریکی جوہری ہتھیاروں کی چھتری دستیاب ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ جاپانی شہر ہیروشمیا پر چھ اگست 1945 کو ایٹم بم گرایا گیا تھا اور اس کے تین روز بعد امریکا نے دوسرے جاپانی شہر ناگاساکی کو نشانہ بنایا تھا۔

ان ایٹمی حملوں کی وجہ سے ہیروشیما میں ایک لاکھ چالیس ہزار جب کہ ناگاساکی میں 74 ہزار انسان لقمہء اجل بن گئے تھے۔ان میں سے کچھ افراد تو فوری طور پر ہلاک ہوئےجب کہ بہت سے دہائیوں بعد بھی تاب کاری کی وجہ پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارے۔ جاپان نے ان جوہری حملوں کے بعد 15 اگست کو شکست تسلیم کر کے ہتھیار ڈال دیے تھے۔