1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

71 ء کے جنگی جرائم کا مقدمہ: وکلاء اور گواہوں کو ہراساں کرنے کی کوششیں

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سن 1971 کے جنگی جرائم کے مقدمے کے وکلاء اور گواہان کو دی جانے والی دھمکیوں کی تفتیش کرائے۔

default

دلاور حسین سیدی

بنگلہ دیش میں ملک کی آزادی کے وقت یعنی سن 1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران جنگی جرائم میں شریک مشتبہ افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت وزیر اعظم حسینہ واجد کا قائم کردہ ایک ٹریبیونل کرے گا۔ اس سلسلے میں پہلی عدالتی کارروائی بیس نومبرسے شروع ہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے عوام نے یہ جنگ پاکستانی فوج کے خلاف لڑی تھی۔

انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) کے مطابق عدالتی کارروائی جن مشتبہ افراد کے خلاف کی جائے گی،، ان کے وکلائے دفاع کو ڈرانے دھمکانے کا عمل شروع ہے اور اس باعث یہ کارروائی ابھی سے شفافیت سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ امریکی شہر نیو یارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے ڈھاکہ حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ ان مقدمات میں غیر جانبداری دکھانے کی خواہش رکھتی ہے تووکلاء اور گواہان کو دی جانے والی دھمکیوں اور انہیں ہراساں کرنے یا ذہنی تشدد کے سلسلے کو یقینی طور پر بند کیا جائے۔

Delwar Hossain Sayeedi

دلاور حسین سیدی کا مقدمہ بیس نومبر سے شروع ہو گا

مقامی ذرائع کی اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش کی مذہبی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے دلاور حسین سیّدی کے وکلاء کو مسلسل ہراساں اور ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ دلاور حسین سیدی کے ایک وکیل کو جھوٹے مقدمے کے تحت گرفتار کرنے کی دھمکی دی جا چکی ہے جب کہ دوسرے وکیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے مقامی کارکنوں کے مطابق اس عدالتی کارروائی کے جواب میں سن 1971 کے واقعات کی ریسرچ کرنے والا ایک محقق اپنی جان بچانے کی کوشش میں کسی خفیہ مقام پر چھپنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

ان واقعات کے جواب میں بنگلہ دیشی اٹارنی جنرل محبوب عالم کا کہنا ہے کہ یہ سب من گھڑت اور مبالغہ امیزی پر مبنی بیانات ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے دلاور حسین سیدی کو بیس الزامات کا سامنا ہے۔ ان کے ساتھ چار اور افراد بھی ایسے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان چار افراد میں سے دو کا تعلق جماعت اسلامی اور دو مرکزی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیس نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں نے حکومت کے قائم کردہ اس ٹریبیونل کو دکھاوا قرار دیا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس