1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

71ء کی جنگ، بنگلہ دیش میں پہلے ملزم کے خلاف فرد جرم عائد

بنگلہ دیش میں آج پیر کے روز ایک خصوصی عدالت میں 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران نسل کشی اور جنسی زیادتی سمیت مختلف الزامات کے تحت اولین مشتبہ ملزم کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی۔

default

ملزم کا نام دلاور حسین سعیدی ہے اور وہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی پارٹی، جماعت اسلامی کے ایک لیڈر ہیں۔ ان پر چار عشرے قبل لڑی جانے والی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ یہ عدالت گزشتہ برس قائم کی گئی تھی۔ سعیدی کے خلاف فرد جرم اسی عدالت میں عائد کی گئی۔ اس عدالت کو بنگلہ دیش میں انٹر نیشنل کرائمز ٹریبینول کہا جاتا ہے تاہم صرف داخلی سطح پر کام کرنے والے اس ٹریبینول کا اقوام متحدہ یا کسی دوسرے عالمی ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس عدالت کا کام ایسے مبینہ ملزمان کا پتہ چلا کر انہیں سزائیں سنانا ہے، جو سن 1971 میں بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی کی نو ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران سنگین نوعیت کے جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔ ڈھاکہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دلاور حسین سعیدی پر آج پیر کو مجموعی طور پر 20 کے قریب الزامات عائد کیے گئے۔

Bangladesch Pakistan Indien Ostpakistan Westpakistan Unabhängigkeit

ان میں انسانیت کے خلاف جرائم، قتل، نسل کشی، جنسی زیادتی اور لوٹ مار کے الزامات کے علاوہ یہ الزام بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران سعیدی ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوششوں کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پبلک پروسیکیوٹر عبدالرحمان ہولادر نے آج کی کارروائی کے بعد کھچا کھچ بھری ہوئی اس عدالت سے باہر نکلنے کے بعد کہا کہ ملزم سعیدی کو اتنی ہی سخت سزا ملنی چاہیے، جتنے سنگین اس کے جرائم ہیں۔ آج کی کارروائی کے دوران اس خصوصی عدالت کے جج نظام الحق کی طرف سے ملزم سعیدی کے خلاف لگائے گئے الزامات پڑھ  کر سنائے گئے۔

سعیدی کی عمر اس وقت 71 برس ہے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت ہو جانے پر انہیں پھانسی کے ذریعے سزائے موت تک کا حکم بھی سنایا جا سکتا ہے۔ دلاور حسین سعیدی کے بارے میں استغاثہ کا الزام ہے کہ وہ ایک ایسی ملیشیا کے علاقائی سربراہ تھے، جو بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والوں نے قائم کی تھی۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے قیام اور مغربی پاکستان سے علیحدگی کے خلاف تھی۔

Gedenkfeier Liberation War Museum Dhaka

اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے متعلق ملزم دلاور حسین سعیدی نے عدالت میں کہا کہ اس کے خلاف تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ ان میں سے کسی ایک بھی جرم  کا مرتکب نہیں ہوا۔

آج کا بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی ایک مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست ہے، جو 1971ء تک پاکستان کا حصہ تھا اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ چار عشرے پہلے کے خونریز واقعات کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا آزاد ریاستی وجود عمل میں آیا تھا۔ 70 کے عشرے کے ان خونریز واقعات کو بنگلہ دیش میں آزادی کی جنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ پاکستان، جو بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد آدھا رہ گیا تھا، اس عمل کو سقوط ڈھاکہ کا نام دیتا ہے۔

بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کے مطابق بنگلہ دیش کی آزادی کی اس جنگ میں تین ملین تک انسان مارے گئے تھے۔ ڈھاکہ حکومت کے مطابق ان میں سے بہت سے انسانوں کو وہاں پاکستانی فوج کے مقامی حامیوں نے قتل کیا تھا، جنہیں عرف عام میں 'معاون سازشی‘ کیا جاتا ہے۔

آج تین اکتوبر کے دن کی کارروائی کے بعد اس مقدمے کی سماعت 30 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM