1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

58 یہودیوں کا قتل: سابق نازی سارجنٹ پر فرد جرم عائد

جرمن دفتر استغاثہ نے ایک نوے سالہ سابق نازی کے خلاف مبینہ طور پر 58 یہودیوں کو قتل کرنے کے الزام پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اواخر میں پیش آیا تھا۔

default

نازی دور حکومت میں جرمنی اور مقبوضہ یورپ میں یہودیوں سے جبری مشقت کروائی جاتی تھی

اڈولف سٹرومز نامی یہ سابق نازی سن 1945 ء میں نازی لیڈر اڈولف ہٹلر کی ایس ایس فوج میں اسکواڈ لیڈر کے طور پر کام کرتا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے آخری ہفتوں کے دوران 58 یہودیوں کو ہلاک کرنے میں معاونت کی تھی۔

مغربی جرمن شہر ڈوسبرگ کا رہائشی یہ شخص کئی سالوں تک ریلوے کے محکمے میں اسٹیشن ماسٹر کے طور پر کام کرتا رہا تاہم اس کی شناخت نہ ہوسکی۔ سابق نازی سٹرومز کی شناخت اس وقت ہوئی جب آسٹریا کے ایک طالب علم نے اپنے ایک تحقیقی مقالے پر کام کرتے ہوئے، سٹرومز کو مبینہ طور پر یہودیوں کے قتل میں ملوث پایا۔ آسٹریا ویانا یونیورسٹی کا طالب علم آندریاس فورسٹر جنگلات میں مارے جانے والے افراد پر تحقیق کر رہا تھا کہ مشرقی آسٹریائی گاؤں Deutsch Schuetzen میں اس نے گواہوں کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ میں اڈولف سٹرومز کا نام پڑھا۔

بعد ازاں اس طالب علم، فورسٹر نے برلن میں قائم وفاقی ادارہ برائے آرکائیو سے مزید معلومات حاصل کیں اور ثابت کیا کہ سٹرومز کا تعلق اسی واقعے سے ہے جس میں 57 یہودیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ فوسٹر کے استاد پروفیسر والٹر مانوشک نے خبر رساں ادارے AP کو بتایا کہ اس نے اپنے شاگرد کے ہمراہ سٹرومز کے گھر میں اس سے ملاقات کی اور اس سے بارہ گھنٹوں پر مبنی ایک انٹرویو بھی کیا تاہم سٹرومز کو اس واقعے کے بارے میں کچھ یاد نہیں ہے۔

Der Reichsführer der SS Heinrich Himmler in der Stierkampfarena Madrid

ایسی ایس فوج کے سربراہ ہنریش ہیملر

جرمن عدالتی حکام نے کہا ہے کہ 29 مارچ سن 1945 ء میں ملزم اور اس کے ساتھیوں نے کم ازکم 57 یہودیوں کو آسٹریا کے ایک جنگل میں لا کر ہلاک کیا تھا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ ہنگری سے تعلق رکھنے والے انہی یہودیوں سے زبردستی کام کروایا جاتا تھا تاہم عالمی جنگ کے اختتام سے قبل ایس ایس فوج نے انہیں ہلاک کردیا۔ سن 1995ء میں آسٹریا کی ایک یہودی ادارے نے ایک اجتماعی قبر سے ان یہودیوں کو لاشیں دریافت کی تھیں۔

حکام نے مزید بتایا کہ 29 یا 30 مارچ کو سٹرومز نے ایک اور یہودی کو گولی مار کر ہلاک کیا جو فورسڈ مارچ میں حصہ لینے کے باعث چلنے کے قابل نہیں رہا تھا۔

جرمن حکام نے اس حوالے سے گزشتہ سال ہی تحقیقات شروع کر دی تھیں اور شواہدحاصل کرنے کے بعد منگل کے روز سٹرومز کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اب ڈوسبرگ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس عمر رسیدہ شخص کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا یا نہیں۔ ملزم کو دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی صفائی میں بیان ترتیب دے سکے یا مقدمے کو رکوانے کے لئے درخواست کر سکے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM