1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

49 ملین سال پرانی وہیل مچھلی کا فوصل برآمد

ارجنٹائن کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے وہیل مچھلی کی ابتدائی قسم کا فوصل دریافت کیا ہے۔ 49 ملین سال پرانا یہ فوصل وہیل مچھلیوں کے اب تک ملنے والے فوصلز میں سے سب سے پرانا ہے۔

default

ارجنٹائن کے قریب انٹارکٹک سمندر سے ملنے والا یہ پہلا فوصل ہے۔ یہ قدیم ترین وہیل یا آرکیوسیٹ archeocete اب سے چار کروڑ 90 لاکھ سال قبل انٹارکٹک سمندر میں موجود تھی۔ ارجنٹائن کی پیلنٹولوجسٹ یا ماہر رکازیات کلاڈیا تمبوسی نے ملکی نیوز ایجنسی Telam کو بتایا: ’’دریافت کیا جانے والا فوصل وہیل مچھلی کے جبڑے کی ہڈی ہے جو 60 سینٹی میٹر لمبی ہے۔ اس کی بناوٹ بالکل ویسی ہی ہے جیسی آج کل کی وہیل مچھلیوں کے جبڑے کی ہے۔ یہ وہیل مچھلی اب سے قبل لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔‘‘

تمبوسی کا مزید کہنا تھا: ’’ ہم لوگ سمندروں اور سطح زمین پر رہنے والے ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں (vertebrates) کی تلاش کر رہے ہیں، لیکن بغیر ریڑھ کی ہڈی والے (invertebrates)جانوروں کی بھی ایک لامحدود تعداد موجود ہے۔ ہمیں جو بھی نشان مل رہا ہے وہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ اس دور کی نشانیاں ہیں جب براعظم انٹارکٹکا ابھی منجمد خطہ نہیں تھا، بلکہ یہاں جنگل اور جانور موجود تھے۔‘‘

قدیم ترین وہیل یا آرکیوسیٹ archeocete اب سے چار کروڑ 90 لاکھ سال قبل انٹارکٹک سمندر میں موجود تھی

قدیم ترین وہیل یا آرکیوسیٹ archeocete اب سے چار کروڑ 90 لاکھ سال قبل انٹارکٹک سمندر میں موجود تھی

تازہ دریافت سے قبل ملنے والے وہیلز کے فوصلز دراصل ایسی وہیلز کے تھے جو چار پاؤں رکھتی تھیں جس کی بدولت وہ خشکی اور سمندر دونوں میں رہ سکتی تھیں۔ انہیں ’semi-aquatic‘ کہا جاتا ہے اور ایسی وہیلز کے فوصلز جنوبی ایشیا کے علاقے میں ملے اور یہ 53 ملین سال تک پرانے ہیں۔

بدھ 12 اکتوبر کو جس دریافت کے بارے میں اعلان کیا گیا ہے وہ ’fully aquatic‘ یا مکمل طور پر سمندر میں رہنے والی وہیل کا فوصل ہے۔ اس وہیل کا تعلق Basilosauridae نامی قسم سے ہے اور اسے موجودہ وہیلز کی تمام نسلوں کا اجداد خیال کیا جاتا ہے۔ دریافت کیے جانے والے فوصل کی عمر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قسم کی وہیلز کا تنوع بہت تیزی سے ہوا بلکہ وہ شمالی کرہ ارض میں اس سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلیں جس کا پہلے اندازہ لگایا گیا تھا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس