1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

47ء کے بعد ڈمہ ڈولہ پر فورسز کو کنڑول حاصل، ایف سی

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقے باجوڑ میں مجموعی طور پر 75 ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد شدت پسندوں کے مبینہ گڑھ ’ڈمہ ڈولہ‘ پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے۔

default

انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل طارق خان نے منگل کے روز صحافیوں کو علاقے کا دورہ کرایا۔ آئی جی ایف سی کے بقول علاقے سے بھارتی ساختہ اسلحہ برآمد ہوا ہے جس سے سوالات نے جنم لیا ہے۔

ان کے بقول ڈمہ ڈولہ میں 1947ء کے بعد پہلی مرتبہ پاکستانی جھنڈا لہرایا گیا۔ جنرل طارق کے مطابق مارے جانے والے عسکریت پسندوں میں مصری، ازبک، چیچن اور افغان شامل تھے۔ فرنٹئیر کور کے انسپیکٹر جنرل نے الزام عائد کیا کہ سابق رکن قومی اسمبلی ہارون الرشید کا گھر شدت پسندوں کا مرکز تھا۔ ان کے بقول ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز‘ ایف سی آر کے تحت سابق رکن قومی اسمبلی کا گھر مسمار کردیا گیا ہے جبکہ ان کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دریں اثنا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے مبینہ امریکی ڈرون حملے میں اپنے کمانڈر قاری محمد ظفر کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔ قاری ظفر کی ہلاکت کا دعویٰ پاکستانی خفیہ ادارے کی جانب سے گزشتہ دنوں کیا گیا تھا۔

Ramzi Binalshibh festgenommen, als er bewaffnet ein Haus besetzte

کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے

مبینہ طور پر القاعدہ سے منسلک اس طالب کمانڈر پر 2006ء میں کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ کرنے کا بھی الزام تھا۔ اس حملے میں تین پاکستانیوں سمیت ایک امریکی اہلکار ڈیوڈ فوئے ہلاک ہوئے تھے۔

ظفر کا تعلق کالعدم عسکری تنظیم ’لشکرِ جھنگوی‘ سے تھا۔ عسکریت پسندوں کے جاری کردہ ایک بیان مطابق وہ 24 فروری کو 14 ساتھیوں کے ہمراہ شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے میں ’شہید‘ ہوا۔ امریکہ نے قاری ظفر کی گرفتاری پر پچاس لاکھ ڈالر جبکہ پاکستان نے پانچ لاکھ روپے انعام مقرر کیا تھا۔ خیال رہے کہ گزشتہ چھ سالوں میں قبائلی علاقوں میں کئے گئے سو سے زائد مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں متعدد عسکریت پسند کمانڈروں کی ہلاکت کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : گوہر نزیر گیلانی

DW.COM