1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

45 ممالک، 56 اخبار، ایک اداریہ اور موضوع تحفظ ماحول

فرانس کے لے مونڈے اور امریکہ کے میامی ہیرالڈ سمیت دُنیا بھر کے متعدد مؤقر روزناموں میں آج کوپن ہیگن کی ماحولیاتی کانفرنس کے آغاز کے موقع پر ایک ہی اداریہ شائع کیا گیا ہے۔

default

ان اخبارات نے اس اداریے میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس سربراہی کانفرنس کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنے میں ناکامی تباہی کا باعث بنے گی۔

اس مشترکہ اداریے سے اقتسابات لندن سے شائع ہونے والے روزنامہ گارجیئن نے اپنی اتوار کی اشاعت میں پیش کئے۔ اس میں کہا گیا ہے، 'ہم کوپن ہیگن میں جمع ایک سو بانوے ممالک کے نمائندوں پر زور دیتے ہیں، ہچکچایے نہیں، تنازعوں میں نہ الجھیے، ایک دوسرے پر الزام بھی نہ دیجئے، بلکہ جدید سیاست کے باعث ملنے والی ناکامی سے حاصل ہونے والے موقع کو تھام لیجئے۔'

بعض اخبارات نے خلاف معمول یہ اداریہ صفحہ اوّل پر بھی شائع کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اداریہ بیس زبانوں میں شائع کیا گیا ہے، جن میں چینی، روسی اور عربی بھی شامل ہے۔ اس منصوبے میں شامل اخباروں نے یہ تحریر کوپن ہیگن کانفرنس سے ایک ماہ قبل تیار کی، جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں ایک تحقیق سے متعلق متنازعہ ایمیل کے منظر عام پر آنے کے باوجود ماحولیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں حقائق واضح ہیں۔

اس ایمیل سے ان دعووں کو تقویت ملی کہ سائنسدان ایسے اعدادوشمار کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، جن سے درجہ حرارت میں اضافہ ثابت نہیں ہوتا۔

تاہم اداریے میں کہا گیا ہے، 'سائنسی جریدوں میں اب سوال یہ نہیں رہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے لئے انسان کو قصوروار ٹھہرایا جائے یا نہیں، بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لئے ہمارے پاس وقت کتنا باقی ہے۔ اس کے باوجود دُنیا انتہائی کمزوری اور بے دلی سے رد عمل ظاہر کر رہی ہے۔'

یہ اخبارات لکھتے ہیں کہ عالمی رہنماؤں کو درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری سیلسیئس تک محدود کرنے کے لئے اتفاق رائے تک پہنچنا ہوگا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM