1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

45 ممالک کوئلے، گیس اور تیل سے مکمل چھٹکارا چاہتے ہیں

مراکش میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس کے اختتام پر ایک اہم ترین اور حیران کن فیصلہ یہ سامنے آیا ہے کہ دنیا کے پینتالیس ممالک اپنی توانائی کی تمام تر ضروریات قابل تجدید توانائی سے پوری کرنا چاہتے ہیں۔

دنیا کے تینتالیس ممالک ماحول دوست تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مل کر ایک عرصے سے بین الاقوامی برادری کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئلے، تیل اور قدرتی گیس سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ ان ممالک اور تنظیموں کے اتحاد کو ’سی وی ایف‘ کہا جاتا ہے۔ اب مراکش میں ہونے والے بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس کے اختتام پر جمعے کے روز ان ممالک نے حیران کن اعلان کیا ہے۔

جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق یہ ممالک جتنی جلدی ممکن ہوا قدرتی گیس، کوئلے اور تیل کا استعمال ترک کر دیں گے۔ یہ ملک اپنی تمام تر توانائی کی ضروریات قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ممالک سن 2020 تک ہر صورت اپنے اہداف کو حتمی شکل دے دیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد عالمی درجہٴ حرارت کو 1.5 گریڈ سے کم کرنا ہے۔

جن ممالک نے یہ اعلان کیا ہے، ان میں زیادہ تر افریقہ اور ایشیاء کے وہ غریب ممالک شامل ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

Marokko COP22 Konferenz in Marrakesh (DW/L. Osborne)

ان اقدامات کا مقصد عالمی درجہٴ حرارت کو 1.5 گریڈ سے کم کرنا ہے۔

اس اعلان کے حوالے سے جرمنی کی ایک غیر سرکاری تنظیم اور ماحولیاتی امور کی ماہر زابینے مینینگر کا تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ یہ ایک ایسا اعلان ہے، جس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ناممکن نظر آتا ہے۔‘‘

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیم کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک نے اس اعلان کو ’’ایک انتہائی طاقتور پیغام‘‘ قرار دیا ہے۔ اس تنظیم نے اس اعلان کو ’’توانائی کے انقلاب کا نقطہء آغاز‘‘ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والےعلامیے میں اسے ایک حیران کن پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ 45 ممالک میں ’توانائی کے اس انقلاب‘ کو انجام تک پہنچانے میں صنعتی ممالک ان کی مدد کریں گے۔ عالمی ماحولیاتی معاہدے کے تحت ترقیاتی امداد کے صورت میں ایک سو ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

مراکش میں جرمن حکومت کی طرف سے غریب ممالک کو مزید پچاس ملین ڈالر کی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم برلن حکومت سن 2020 سے سالانہ چار ارب ڈالر فراہم کرے گی۔

دوسری جانب یہ بھی خوف پایا جاتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف جاری جنگ میں امریکا مستقبل میں کیا کردار ادا کرے گا۔ امریکا مالیاتی امداد فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس حوالے سے کون سی پالیسی اپنائیں گے۔