1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

35 سفارت کاروں کی بے دخلی، روس کا ’انتقامی کارروائی‘ کا عزم

ماسکو حکومت نے کہا ہےکہ امریکا کی طرف سے پابندیاں عائد کرنے کی صورت میں جوابی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ قبل ازیں امریکا نے پینتیس روسی سفارت کاروں کو جاسوس قرار دیتے ہوئے ملک بدری کا حکم دے دیا تھا۔

جمعرات کے روز امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری لینڈ اور نیویارک میں واقع دو روسی کمپاؤنڈز کو جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا اور اسی وجہ سے انہیں بند کر دیا جائے گا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق ان روسی سفارت کاروں کو جمعے کی دوپہر بارہ بجے تک ان عمارتوں میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔

USA | Russische Botschaft in Washington DC (picture-alliance/AP Images/J. Scott Applewhite)

امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری لینڈ اور نیویارک میں واقع دو روسی کمپاؤنڈز کو جاسوسی سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا اور اسی وجہ سے انہیں بند کر دیا جائے گا

امریکی وزارت خارجہ نے روس کے پینتیس سفارت کاروں کو جاسوسی کی سرگرمیوں میں ’ملوث‘ قرار دیتے ہوئے ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دے دیا تھا۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ان سفارت کاروں کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر امریکا سے نکل جانا ہوگا۔ واشنگٹن نے روسی فوج کے اہم انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ (جی آر یو) پر الزام لگایا ہے کہ اس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے کے ارادے سے مختلف ویب سائٹس اور ای میل اکاؤنٹس ہیک کیے اور اس عمل میں اسے روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کی مدد بھی حاصل رہی۔

اس کے علاوہ بھی امریکی اداروں ہوم لینڈ سکیورٹی اور ایف بی آئی نے ایک انتہائی تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں کس طرح روس نے اہم سیاسی ویب سائٹس ہیک کر کے مداخلت کی۔  امریکی صدر کہہ چکے ہیں کہ روس کو اس مداخلت کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

ماسکو حکومت نے ان امریکی الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے ان اقدامات کے خلاف ’انتقامی کارروائی‘ کی جائے گی۔ جمعرات کو رات گئے کریملن کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ پابندیاں عائد کرنے کی صورت میں ’’روس کے ساتھ امریکی سفارتی تعلقات تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ مستقبل میں بہتر تعلقات رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں لیکن سرکردہ اور معروف ریپبلکنز رہنماؤں نے صدر اوباما کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ریپبلکن سینیٹر جان مکین اور لنڈسے گراہم  نے اشارتاﹰ کہا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالتے ہی اس بات پر زور دیں گے کہ ’’روس کے خلاف پابندیوں کو مضبوط‘‘ بنایا جائے۔ تاہم ماسکو کی طرف سے بھی یہی کہا گیا ہے کہ وہ جوابی کارروائی کرنے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کا انتظار کریں گے۔