1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

22 مئی: حیاتیاتی تنوع کا عالمی دن

آج 22 مئی کو دُنیا بھر میں حیاتیاتی تنوع کا بین الاقوامی دن منایا جا رہا ہے۔ اِسے منانے کا مقصد حیاتیاتی تنوع کے بچاؤ کا شعور بیدار کرنا اور اِس نصب العین کے حصول کے لیے اہم اقدامات کی ضرورت پر زور دینا ہے۔

انڈونیشی جزیرے سماٹرا کا ٹائیگر

انڈونیشی جزیرے سماٹرا کا ٹائیگر

حیاتیاتی تنوع کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہ تبدیلیاں قدرتی ماحول کو اس قدر تیزی کے ساتھ متاثر کرتی ہیں کہ بہت سے جانور اور نباتات اُس تیزی سے خود کو نئے حالات کے مطابق نہیں ڈھال پاتے۔

قدرتی ماحول کے تحفظ کی ایجنسی ’نیچرل انگلینڈ‘ سے وابستہ نکولس میک گریگر (Nicholas MacGregor) بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں پر مختلف جانوروں کا رد عمل مختلف ہوتا ہے اور یہ چیز مسائل کا باعث بنتی ہے کیونکہ کوئی بھی جانور تنہا نہیں بلکہ ایک پوری کمیونٹی کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔

رواں سال کو جنگلات کے تحفظ کے بین الاقوامی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے

رواں سال کو جنگلات کے تحفظ کے بین الاقوامی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے

ان مسائل کی وضاحت کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں:’’کبھی کبھی درختوں پر وقت سے پہلے ہی پتے نکلنے لگتے ہیں۔ تب وہ حشرات بھی وقت سے پہلے نمودار ہونے لگتے ہیں، جو ان پتوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم خود یہ حشرات جن پرندوں کی خوراک بنتے ہیں، اُن میں اتنی لچک نہیں ہوتی کہ وہ وقت سے پہلے ہی انڈے دینا شروع کر دیں۔ یہ چیز کسی ایک نوع کی بقا اور افزائش نسل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔‘‘

موسمیاتی تبدیلیاں مختلف طرح کے جانوروں یا پودوں کو ہی نہیں بلکہ پورے کے پورے حیاتیاتی نظاموں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ قدرتی ماحول کے وفاقی جرمن محکمے کی صدر بیاٹے ژیسل (Beate Jessel) کو یورپ میں نظر آنے والی تبدیلیوں پر ہی تشویش نہیں ہے بلکہ وہ زمینی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے اُستوائی اور نیم حاری خطّوں میں مونگے کی چٹانوں کو درپیش خطرات پر بھی فکر مند ہیں:’’مونگے کی چٹانیں بہت بڑی ماحولیاتی خدمات انجام دیتی ہیں۔ یہ سیلابی لہروں کو روکتی ہیں۔ یہ ماہی گیری، خوراک کی یقینی فراہمی اور سیاحت کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم ان چٹانوں کو ابھی سے نقصان پہنچ رہا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ دُنیا بھر میں مونگے کی چٹانوں کو بچانے کے لیے زمینی درجہ حرارت میں زیادہ سے زیادہ دو سینٹی گریڈ اضافے کا ہدف کافی نہیں ہو گا۔‘‘

’’کبھی کبھی درختوں پر وقت سے پہلے ہی پتے نکلنے لگتے ہیں۔ تب وہ حشرات بھی وقت سے پہلے نمودار ہونے لگتے ہیں، جو ان پتوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘‘

’’کبھی کبھی درختوں پر وقت سے پہلے ہی پتے نکلنے لگتے ہیں۔ تب وہ حشرات بھی وقت سے پہلے نمودار ہونے لگتے ہیں، جو ان پتوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں‘‘

آج حیاتیاتی تنوع کا بین الاقوامی دن جبکہ اس سال کو جنگلات کے تحفظ کے بین الاقوامی سال کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ اِن مواقع کی مناسبت سے یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ جنگلات اور دریاؤں جیسے دیگر ماحولیاتی نظام بھی ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں مختلف النوع خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ یہ پانی کو گردش میں رکھتے ہیں، ہمیں خوراک دیتے ہیں، ہمارے لیے سکون اور آرام کا بھی ذریعہ ہیں اور سب سے بڑھ کر ماحول کو ایک قاعدے اور نظم کے مطابق رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM