1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

2050ء میں دنیا کے دس ارب انسانوں کو کیا کھانا پڑے گا؟

اس وقت عالمی آبادی سات بلین سے زائد ہے جو اس صدی کے نصف تک بڑھ کر قریب دس بلین ہو جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ تب ان دس ارب انسانوں کو زندہ رہنے کے لیے کیا کھانا ہو گا یا آیا وہ اپنی خوراک کی ضروریات پوری بھی کر سکیں گے؟

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت کرہء ارض کی مجموعی آبادی 7.1 ارب ہے، جو 2050ء تک مزید بڑھ کر 9.7 یا قریب 10 ارب ہو جائے گی۔ دیکھا جائے تو مستقبل میں زمین پر انسانوں کی یہ آبادی دراصل اتنے زیادہ پیٹ ہوں گے، جنہیں دیرپا بنیادوں پر بھرنا آج استعمال کیے جانے والے طریقوں کے مطابق تو کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہو گی۔

آج کے صنعتی زراعت کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں کے تحت زمین کے قدرتی وسائل بہت زیادہ دباؤ میں ہیں، زرعی اراضی ضائع ہو رہی ہے، کاربن گیسوں کا اخراج تباہ کن ثابت ہو رہا ہے، ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے اور دنیا کے کئی خطوں میں اشیائے خوراک کی فراہمی یا فوڈ سکیورٹی کی تو کوئی ضمانت ہی نہیں ہے۔

اس بظاہر پریشان کر دینے والی صورت حال کے باوجود ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ایک نئی تحقیق کے مطابق، جس کے نتائج ابھی حال ہی میں جاری کیے گئے، دس ارب انسانوں کا پیٹ بھرنا بھی کوئی ناممکن کام نہیں ہو گا۔ بس اس کے لیے لازمی یہ ہو گا کہ زمین پر اس وقت جتنا بھی جنگلاتی رقبہ موجود ہے، اسے کم نہ ہونے دیا جائے۔

اس نئی ریسرچ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے محقق کارل ہائنس اَیرب نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’اب تک ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ مستقبل میں عالمی رہنماؤں کو زمین پر انسانی آبادی کا پیٹ بھرنے اور جنگلات کے تحفظ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ یہ دلیل غلط ہے۔‘‘

Bioabfall für die Biogasanlage

دنیا بھر میں پھلوں اور سبزیوں سمیت آج بھی ہر سال کئی ملین ٹن اشیاائے خوراک ضائع کر دی جاتی ہیں

کارل ہائنس اَیرب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’تکنیکی حوالے سے کئی دیگر امکانات بھی موجود ہیں، جن کو بروئے کار لاتے ہوئے مستقبل میں خوراک کی عالمی ضروریات اور دستیابی کی ڈرامائی صورت حال سے بہت حد تک بچا جا سکتا ہے۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر قریب ساڑھے تین عشرے بعد مجموعی آبادی کے لیے خوراک کی دستیابی کی صورت حال ایسی تو بالکل نہیں ہو گی کہ جیسے ’کوئی کیک ہے، جو ہم آج کھا رہے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ کھاتے ہی رہیں گے‘۔

اس ریسرچ رپورٹ کے مصنفین کے مطابق مستقبل میں انسانوں کو زرعی طریقوں، قدرتی ماحول کے تحفظ اور اپنے کھانے پینے کی عادات کے مابین ایک نیا توازن لازمی طور پر تلاش کرنا ہو گا۔ اس میں ایک فیصلہ کن بات یہ بھی ہو گی کہ تب انسان زیادہ گوشت نہیں کھا سکیں گے۔ اس لیے کہ جتنا زیادہ گوشت کھایا جائے گا، اتنا ہی اس گوشت کے لیے نئے جانوروں کی پیدائش، پرورش اور دیکھ بھال کی وجہ سے ماحول پر پڑنے والا بوجھ بھی زیادہ ہو گا۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ اگر انسان گوشت کھانا کم کر دیں تو 2050 میں ہر کسی کا پیٹ بھرنے کے لیے اس سے بھی کم رقبے پر کاشت کاری کی ضرورت ہو گی، جتنے رقبے پر یہی کاشت کاری آج کل کی جا رہی ہے۔

عالمی خوراک پروگرام کے مطابق دنیا میں ابھی بھی 10 فیصد انسانوں کو اس حد تک کافی خوراک دستیاب ہی نہیں کہ وہ فعال اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔ دوسری طرف ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں عام شہریوں کی زیادہ تر عادت یہ ہے کہ وہ فی کس بنیادوں پر کسی بھی قسم کا گوشت بہت زیادہ کھاتے ہیں اور ان کی خوراک میں صنعتی طور پر تیار کردہ اشیاء یا پروسیسڈ فوڈ کا تناسب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

Südsudan Mehr als 30.000 Menschen laut UNO vom Hungertod bedroht

مختلف براعظموں کے کئی ملکوں میں کروڑوں انسانوں کو آج بھی بھوک، فاقہ کشی، قحط اور خشک سالی کا سامنا ہے

مستقبل میں اس تفریق کو دور کرنا بھی لازمی ہو گا۔ بیلجیم کی لُووَیں یونیورسٹی کے ایک محقق یوزے لوئیس ویویرو پول کا کہنا ہے کہ مستقبل کی صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو آج کئی ملکوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کی مسلمہ بنیادی سہولیات کے طور پر فراہمی کی طرح آئندہ ہر ملک میں خوراک کی فراہمی کو بھی ہر انسان کا بنیادی حق تسلیم کرنا پڑے گا۔

ایک آخری اور بہت اہم بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنی بھی خوراک پیدا ہوتی ہے، اس کا قریب ایک تہائی حصہ ضائع کر دیا جاتا ہے یا ہو جاتا ہے۔ موجودہ صدی کے پہلے نصف حصے کے خاتمے تک اس ضیاع کو روکنا ہو گا۔ اس لیے کہ فیصلہ کن بات یہ بھی ہے کہ جتنی خوراک دستیاب ہے، اسے کھایا جائے اور جو ضائع ہو جاتی ہے، اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

اس طرز فکر کی کامیابی کی کنجی یہ ہو سکتی ہے: ’’جو نہیں کھایا جائے گا، اسے ضائع نہ کیا جائے۔ اور جو ضائع نہیں کیا جائے گا، وہ کسی دوسرے کے منہ میں چلا جائے گا۔‘‘

DW.COM