1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

2016: پاکستانی کھیلوں کے لیے سخت اتار چڑھاؤ کا سال

سن 2016 میں پاکستانی کھیلوں کے لیے ایک مشکل لیکن ایسا سال تھا جب وقتا فوقتا دنیا کے مختلف براعظموں سے پاکستانی کھلاڑی اچھی شہ سرخیوں کی وجہ بنتے رہے۔

سن دو ہزار سولہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلی بارعالمی نمبر ایک بن کر کھیل میں پاکستان کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر دی۔ باکسنگ رنگ اورسکواش کورٹ میں پاکستان کا ایک بار پھر ڈنکا بجا لیکن پاکستانی ہاکی کے ستارے گردش سے باہر نہ آسکے اور مقامی سیاست کی وجہ سے فٹ بال کی سیٹی سال بھر نہ بج سکی۔

سال کی سب سے بڑی عنایت

پاکستان نے موسم گرما میں انگلینڈ کے خلاف لندن کے دونوں ٹیسٹ جیت کر سیریز برابر کردی۔ مصباح اینڈ کمپنی کو لارڈز اور اوول پر ملنے والی پذیرائی، اسپاٹ فکسنگ قضیے کے بعد، کرکٹ کی عالمی برادری میں پاکستانی ساکھ کی بحالی کا اعلان تھا۔

اگست میں بھارت اور ویسٹ انڈیز کا پورٹ آف اسپین ٹیسٹ بارش اور خراب انتظامات کی نذر ہونے پر پاکستان پہلی بار آئی سی سی کی عالمی رینکنگ میں نمبر ایک ملک بن گیا۔ یہ ورلڈ کپ 1992 کے بعد پاکستان کرکٹ میں سب سے بڑی سے خوش خبری تھی۔ آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے خود لاہور آ کر پاکستانی کپتان مصباح الحق کو نمبرایک ٹیم کا آئی سی سی گرز پیش کیا۔

Misbah-ul-Haq Cricket Spieler ICC Test Championship mace (Getty Images/AFP/A. Ali)

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے پاکستانی کپتان مصباح الحق کو نمبرایک ٹیم کا آئی سی سی گرز پیش کیا

پاکستان کی طرف سے اظہرعلی نے سب زیادہ ( میلبورن ٹیسٹ سے پہلے تک) 950 رنز بنائے، جس میں ڈے نائٹ ٹیسٹ کرکٹ کی پہلی ٹرپل سینچری بھی شامل تھی۔ یاسر شاہ 43 ( میلبورن ٹیسٹ سے پہلے تک) وکٹوں کے ساتھ سال کے سب سے کامیاب پاکستانی باولر ثابت ہوئے۔

ایک روزہ کرب

سن 2016 میں بھی پاکستان کی محدود اوورز کی کرکٹ زوال آمادہ رہی۔ بھارت میں آئی سی سی ورلڈ ٹونٹی ٹونٹی اور بنگلہ دیش میں ایشیا کپ میں پاکستان کو شرم ناک شکست ہوئی جس کے بعد شاہد آفریدی کو برطرف کردیا گیا۔

آفریدی کی جگہ نئے ٹونٹی ٹونٹی کپتان سرفراز احمد نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف لگاتارچار میچز جیت کر یہ ثابت کر دیا کہ انہیں قیادت سونپنے میں پی سی بی نے دیر کی تھی۔ آفریدی کی طرح اظہرعلی کو پاکستان کا ون ڈے کپتان برقرار رکھنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک اور غلط چال ثابت ہوئی۔ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی ایک بے سروپا ٹیم کوامارات میں ضرور کلین سویپ کیا لیکن نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں اسے شکست سے زیادہ سبکیوں کا سامنا کرنا پڑا ۔

سٹار آف دی ایئر

پاکستان کی جانب سے نوجوان بابر اعظم 656 رنز کے ساتھ سال کے سب سے کامیاب بیٹسمین رہے۔ انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تین لگاتار سنچریوں کی مدد سے 360 رنز بنا کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لیکن سٹار آف دی ایئر پاکستانی ٹیسٹ کپتان مصباح الحق تھے۔

آئی سی سی نے انہیں کھیل کی اقدار کا سب سے بڑا پاسدار قرار دے کر آئی سی سی اسپرٹ آف کرکٹ کا ایوارڈ دیا۔ لارڈز پر مصباح کا سنچری بنا کر پش اپ لگانا سن 2016 کا کرکٹ کی دنیا میں سب سے یادگار لمحہ تھا۔

Cricket Pakistan England (DW/T. Saeed)

اظہرعلی کو پاکستان کا ون ڈے کپتان برقرار رکھنا پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایک اور غلط چال ثابت ہوئی

اس وقت انگریز کمنٹیٹر ڈیوڈ لائیڈ نے انہیں بیالیس سالہ نوجوان قرار دیا۔ مصباح نے ان فٹ ہونے کے باوجود فروری میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو پاکستان سپر لیگ کا دبئی اسٹیڈیم میں اولین چمپین بنوایا۔ پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن کی کامیابی پاکستان کرکٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

سکواش کورٹ پر حکمرانی کی طرف قدم

پاکستان اگست میں پولینڈ میں مصر کو 1-2 سے ہرا کر آٹھ برس بعد دوبارہ جونئیر سکواش میں عالمی چمپئن بن گیا۔ اسرار احمد اور عباس شوکت نے پاکستان کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

باکسنگ

نومبر میں پیشہ ور پاکستانی باکسر محمد وسیم نے عالمی باکسنگ کونسل سلور فلائی ویٹ کا ٹائٹل جیت کر دنیا کو حیران کر دیا۔ وسیم نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والی باوٹ میں اپنے فلپینی حریف جایمل میگرامو کو 12 راؤنڈ کے مقابلے میں مات دی۔

Pakistan Lahore - Israr Ahmad - Squash Profi (DW/T. Saeed)

پاکستان میں سکواش کے ابھرتے ہوئے اسٹار اسرار احمد

فٹ بال

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے دو دھڑوں میں بٹ جانے کے بعد اس سال قومی فٹ بال ٹیم کوئی عالمی ایونٹ نہ کھیل سکی۔ پی ایف ایف کے متنازعہ صدر فیصل صالح حیات کو فیفا کی طرف سے ملنے والی لائف لاین کے بعد بھی انہیں ان کے سرکاری حمایت یافتہ مخالفین نے لاہور میں فٹ بال فیڈریشن کے ہیڈکوارٹرز سے دور رکھا۔

ہاکی

رواں برس پاکستان ہاکی ٹیم نے پہلی بار اولمپکس میں شرکت سے محروم رہی اور ریو ڈی جنیرو میں پاکستان کی نمائندگی محض وائلڈ کارڈ ہولڈرز تک محدود رہی۔

پاکستان ہاکی ٹیم نے فروری میں میزبان بھارت کو گوہاٹی میں ہرا سال کا آغاز جنوبی ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغے کے ساتھ کیا لیکن اس کے بعد گرین شرٹس کے ستارے پھر گردش میں آگئے۔ اپریل میں سلطان اذلان شاہ کپ میں پاکستان کو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت اور ملائشیا سے ہارنے کے بعد سات ممالک میں پانچویں پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔

پاکستان کے ارسلان قادر 6 گول کے ساتھ چمپئن شپ کے ٹاپ اسکورر رہے۔ اکتوبر میں دفاعی چمپئن پاکستان ہاکی ٹیم نے ایشیائی چمپئن ٹرافی کا ٹائٹل بھی فائنل میں روایتی حریف بھارت سے 2-3 سے ہار کر گنوا دیا۔ دسمبر میں پاک بھارت سرحدی کشیدگی نے پاکستان کی جونئیر ہاکی ٹیم کو جونیر عالمی کپ میں شرکت سے محروم رکھا۔

Belgien Hockey World League Semifinale Indien vs. Pakistan (DW/A. Baloch)

رواں برس پاکستان ہاکی ٹیم نے پہلی بار اولمپکس میں شرکت سے محروم رہی

سال کا دکھ

گیارہ اگست کو لٹل ماسٹر حنیف محمد طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ پاکستان کے پہلے ورلڈ کلاس بیٹسمین تھے۔ حنیف کے علاوہ ٹیسٹ امپائر/ٹیسٹ کرکٹر جاوید اختر، مشہور کرکٹ اسکورر عبدالحمید اور ہاکی اولمپئن محمد اخلاق بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔