1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

2016ء کی پہلی ہلاکت، دو سالہ مہاجر بچہ

گزشتہ سال لاکھوں تارکین وطن بحیرہ ایجیئن عبور کر کے یونان پہنچے اور سینکڑوں سمندر کی لہروں کی نذر بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔ رواں سال ڈوبنے والا پہلا مہاجر بھی دو سالہ بچہ ہے۔

گزشتہ برس صرف ایک تصویر نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ چار سالہ ایلان کردی کی ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پڑی ننھی لاش مہاجرین کے موجودہ بحران کی علامت بن گئی ہے۔

نئے سال کا آغاز کے ساتھ تارکین وطن کا بحران بھی جاری ہے اور اس سے جڑے المیے بھی۔ 2016ء میں ہلاک ہونے والا پہلا تارک وطن محض دو سال کا شیر خوار بچہ ہے، جو ترکی سے یونان پہنچنے کی کوشش کے دوران بحیرہ ایجیئن میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

آج اتوار کے روز ملنے والی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ بچہ کل ہفتے کے روز اس وقت ہلاک ہو گیا جب تارکین وطن کی ایک کشتی بحیرہ ایجیئن میں سفر کرتے ہوئے چٹانوں سے ٹکرا کر الٹ گئی تھی۔

ربڑ کی چھوٹی کشتی میں گنجائش سے زیادہ تارکین وطن سوار تھے۔ اس حادثے کی اطلاع مقامی ماہی گیروں نے حکام کو دی جس کے بعد ایک ریسکیو آپریشن کے ذریعے 39 مسافروں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔

ان تارکین وطن کو پناہ گزینوں کو سمندر میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے سرگرم رفاہی ادارے ’مائگرینٹ آف شور ایڈ اسٹیشن‘ (MOAS) اور ہلِینک ساحلی محافظوں کی جانب سے کی گئی ایک مشترکہ امدادی کارروائی کے دوران بچایا گیا۔ دس پناہ گزینوں کو سمندر سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔

شیر خوار بچے کی لاش کو مقامی ماہی گیروں نے سمندر سے نکالا۔ بچے کی ماں سمیت دیگر تارکین وطن کو سمندر سے نکالنے کے بعد جائے حادثہ سے پچاس کلو میٹر دور یونانی جزیرے ساموس پہنچا دیا گیا۔ اب تک موصول ہونے والی رپورٹوں میں پناہ گزینوں کی قومیت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

Griechenland Rettung Flüchtlingsboot Lesbos

گزشتہ برس 3600 سے زائد تارکین وطن بحیرہ ایجیئن میں ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی

رفاہی ادارے MOAS کے بانی کرسٹوفر کیٹرمبون نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’آج ہم نے اب تک ڈوبنے والے سب سے کم عمر پناہ گزین کی لاش کو سمندر سے نکالا۔ یہ بھیانک المیہ ہمیں اب تک ڈوبنے والے ہزاروں تارکین وطن کی یاد دلاتا ہے۔‘‘

سرد موسم، تیز ہوا اور بپھری لہروں کے باجود بھی پناہ گزین سمندری راستے کے ذریعے ترکی سے یونانی جزیروں کی جانب سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس میں ایسی کوششوں کے دوران 3600 سے زائد تارکین وطن بحیرہ ایجیئن میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

DW.COM