1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

2016ء پاکستانی فلمی دنیا اور ادب کے حوالے سے کیسا رہا؟

رواں برس ’ایکٹر ان لا‘ وہ واحد پاکستانی فلم تھی، جس نے باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کیا۔ دوسری جانب جنید جمشید کی ہلاکت، معروف قوال امجد صابری کا قتل اور اداکارہ شمیم آرا کی وفات ایسی خبریں کسی صدمے سے کم نہ تھیں۔

رواں برس پاکستان میں ادب، شوبز اور ثقافتی سرگرمیوں کی صورتحال کیسی رہی، اس سوال کے جواب میں مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں لیکن اس بات پر تقریباﹰ تمام تجزیہ کار متفق ہیں کہ پاکستان میں اس سال بھی ادبی اور ثقافتی محاذ پر بیانیے کی تبدیلی کے لیے اجتماعی طور پر وہ موثر کوششیں نہیں ہو سکیں، جن کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔

اگر فلموں کے حوالے سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سال 2016ء  میں پاکستان میں کوئی چار درجن کے قریب فلمیں بنیں۔ ان میں اردو، پنجابی، پشتو اور علاقائی فلموں سمیت چھوٹی بڑی سب فلمیں شامل ہیں۔ ان فلموں میں ’ایکٹر ان لا‘ وہ واحد فلم تھی، جس نے باکس آفس پر ریکارڈ بزنس کیا۔ اس فلم کو کافی مقبولیت ملی۔ اس فلم کو پروڈکشن کوالٹی ، کہانی، ایڈیٹنگ اور دیگر کئی حوالوں سے بہت سراہا گیا۔ دیگر قابل ذکر فلموں میں لاہور سے آگے، ہو من جہاں، زندگی کتنی حسین ہے، جانان، دوبارہ پھر سے اور تین بہادر وغیرہ شامل ہیں۔ مالک نامی فلم سیاست دانوں کے خلاف بعض مکالموں کی وجہ سے متنازعہ بنی رہی اور یہ معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہا۔ پنجابی زبان میں ڈشکرا، حیدر گجر، شمو ٹانگے والی اور چن چوہدری جیسی فلمیں روایتی کہانیاں لیے ہوئے تھیں۔ البتہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتو فلموں نے پچھلے سال کی نسبت زیادہ بزنس کیا۔

پاکستان کے سینما گھر 2016ء  میں شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے۔ پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کئی ماہ تک بند رہی۔ پاکستان فنکاروں کو بھارت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر پاکستان میں ریڈیو اور ٹی وی پر بھارتی مواد نشر کرنے پر پابندی دیکھنے میں آئی۔ ترکی اور ایران کی فلموں کی پاکستانی سینماوں میں نمائش کے لیے کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔ اسی سال اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کے زیر اہتمام پاکستانی فلمی میلے کا انعقاد بھی کیا گیا۔

سال 2016ء  میں پاکستانی گلوگار اور نعت خواں جنید جمشید کی طیارہ حادثے میں ہلاکت، معروف قوال امجد صابری کا قتل اور اداکارہ شمیم آرا کی طویل علالت کے بعد وفات جیسی خبریں بھی پاکستانی شائقین کے لیے بہت دکھ اور صدمے کا باعث بنیں۔

پاکستان کی فلم انڈسٹری پر نظر رکھنے والے ایک ماہر پیر زادہ سلمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ چند ایک اچھی فلموں کے بننے کے باوجود سال 2016ء  میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی مجموعی صورتحال بہت اچھی نہیں رہی۔

ان کے بقول پاکستانی سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش دوبارہ شروع ہونے سے سینما انڈسٹری کو پہنچنے والے نقصان کا کچھ نہ کچھ ازالہ ہو سکے گا۔

پاکستان کے معروف فلم ساز اور فلموں کے نمائش کار ندیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ادب، فلم اور ثقافت کے معاملات کو سیاست سے دور رکھا جانا چاہیے۔ 2016ء میں پاک بھارت کشیدگی کے پاکستانی فلمی صنعت پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے۔ پہلے بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف رد عمل دیکھنے میں آیا اور پھر بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش رک گئی۔ اس سے پاکستانی سینما انڈسٹری کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔

قابل ذکر کتاب پڑھنے کو نہیں ملی‘

ادب، آرٹ اور شوبز سمیت کسی بھی حوالے سے 2016ء  کوئی غیر معمولی سال نہیں تھا۔کوئی بھی غیر معمولی کتاب چھپ کر مارکیٹ میں نہ آ سکی۔ 

جمہوری پبلیکیشنز کے سربراہ اور ممتاز پبلشر فرخ سہیل گوئندی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ سال 2016 کتابوں کے حوالے کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ ان کے بقول اس سال کتابوں کے بزنس میں پچھلے سال کی نسبت کمی دیکھی گئی، کتابوں کی ڈیمانڈ میں کوئی اضافہ نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق اس سال بھی سب سے زیادہ مذہبی کتابیں پڑھی گئیں، ادبی اور فکری کتابوں کے قارئین مزید محدود ہوتے نظر آئے۔ ان کے بقول جب تک خواندگی کی شرح میں کافی اضافہ نہیں ہوتا اور لوگوں کی قوت خرید نہیں بڑھتی تب تک اس صورتحال میں تیزی سے بہتری نہیں لائی جا سکتی۔

گوئندی کو دکھ ہے کہ سال 2016 میں بھی پاکستان میں کاپی رائٹس کے اصولوں کی خلاف ورزی کی جاری رہی۔ کئی مقبول کتابیں بغیر اجازت چھاپی گئیں اور حکومت اس عمل کو روکنے میں ناکام رہی۔ تاہم انہیں امید ہے کہ دو ہزار سترہ کا سال کتابوں کے حوالے سے بہتر ہوگا اور اس سال بہت سی اچھی کتابیں چھپ کر مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے۔

پاکستان کے ممتاز ادیب اور دانشور محمود شام نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ادبی حوالے سے 2016 کا سال ملا جلا رہا۔ اس سال کتابوں کے بہت سے میلے لگے، ادبی میلوں کی روایت بھی مستحکم انداز میں آگے بڑھی البتہ ان ادبی میلوں کو کسی خاص موضوع سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ اکادمی ادبیات کی ادبی کانفرنس جو دھرنوں کی وجہ سے ملتوی ہو گئی تھی اب چند ہفتوں بعد بغیر کسی تھیم کے منعقد ہونے جا رہی ہے۔ شام صاحب کہتے ہیں کہ 2016ء  میں شائع ہونے والی کتابوں میں کوئی ایسی قابل ذکر کتاب دیکھنے کو نہیں ملی جس میں نئی جہت ہو اور معرکے کا کام کیا گیا ہو۔ زیادہ تر ادبی رسائل بھی معمول کی روایتی تحریریں لیے ہوئے تھے۔

محمود شام بتاتے ہیں کہ 2016ء  میں اردو ادب ڈیجیٹل دنیا کی طرف جاتا دکھائی دیا، شاعروں اور ادیبوں نے سوشل میڈیا کو اظہار کا ذریعہ بنایا اور آن لائن کتابوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

 ان کے بقول پاکستان کی حکومت کو بیانیے کی تبدیلی کے حوالے سے دیرپا منصوبہ بندی کر کے ایسی پالیسیاں بنانی چاہیئں، جن سے معاشرے کے سدھار کے لیے کام کرنے والے فنکاروں، ادیبوں، دانشوروں اور اداروں کی حوصلہ افزائی ہو۔

ملتے جلتے مندرجات