1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

2015 ء سانحے کا سال: اقوام متحدہ کے 70 سال مکمل

اقوام متحدہ کے قیام کو 2015 ء میں 70 برس مکمل ہو گئے تاہم یہ سال اس عالمی ادارے کے لیے بہت بھاری ثابت ہوا ہے۔ نیو یارک میں ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار گیورگ شوارٹے نے اس بارے میں ایک میزانیہ تحریر کیا ہے۔

اتنی زیادہ جنگیں، پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کے فوجیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید اس عالمی ادارے کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی۔ اس کے برعکس رواں سال ایک کامیاب موسمیاتی سمٹ کا انعقاد بھی ہوا۔ نیو یارک سے ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار گیورگ شوارٹے نے اس بارے میں ایک میزانیہ تحریر کیا ہے۔

’’ بس اب بہت ہوگیا‘‘ یہ موٹو رواں برس عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات اور بین الاقوامی صورتحال پر صادق آتا ہے۔ ایک سو ملین یا دس کروڑ افراد انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد کے منتظر ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک پناہ گزینوں کی تعداد کبھی اتنی نہیں بڑھی تھی جتنی اس وقت ہے۔ المیہ یہ کہ یہ سب کچھ ایک سال سال یعنی 2015 ء میں ہوا ہے جب یہ عالمی ادارہ اپنی 70 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے ایک بیان میں کہا،’’ بس اب بہت ہوگیا‘‘۔ اُن کے یہ الفاظ تاہم دہشت گردی کا شکار ہو کر ہلاک ہونے والوں، جنگوں اور بھوک کا شکار ہو کر لقمہ اجل بننے والوں کے لیے نہیں تھے۔ 2015 ء عالمی برادری کے لیے شرمناک سال ثابت ہوا۔ اس سال کے دوران اقوام متحدہ کی امن فورسز میں شامل فوجیوں پر انسانوں کے استحصال کے الزامات بار بار سامنے آئے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، خاص طور سے وسطی افریقی جمہوریہ اور ممکنہ طور پر ہیٹی اور لائبیریا میں یو این فوجیوں کی طرف سے بچوں کو جنسی تشدد کا شکار بنانے کے الزامات۔ اسی وجہ سے بان کی مون نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار کسی امن فورس کمیشن کے سربراہ کو عہدے سے برطرف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینیگال میں تعینات اقوام متحدہ امن مشن کے سربراہ باباکار گائی کو فارغ کر دیا تھا۔

EINSCHRÄNKUNG IM TEXT BEACHTEN! Dieses Bild soll nur als Artikelbild zum Kommentar des Chefredakteurs gebucht werden Türkei Bodrum Aylan Kurdi

سال 2015 ء پناہ گزینوں کی المناک کہانیوں کا سال

سانحوں سے بھرپور ترین سال 2015 ء میں جہاں عالمی موسمیاتی اجلاس کچھ کامیابیوں سے ہمکنار ہوا وہاں اس سال ہیبت ناک واقعات کی تعداد بہت زیادہ رہی۔ مثال کے طور پر شام کی جنگ۔ پانچ سال سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں رواں برس کے اختتام تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ پچیس ہزار تک پہنچ چُکی ہے جبکہ چار ملین افراد پناہ گزینوں کی حیثیت سے در بدر مارے پھر رہے ہیں۔ لاکھوں انسان بھوک کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے مطابق،’’ یہ شام کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ اور عالمی برادری کے لیے شرمناک صورتحال ہے۔ تاریخ کا فیصلہ بے رحم ہو جائے گا‘‘۔

ستمبر 2015 ء ہی میں نیو یارک منعقدہ ’’پائیدار ترقی کے 2030 ء تک کے لیے اہداف‘‘ سے متعلق عالمی کانفرنس میں 170 ممالک کے ریاستی اور حکومتی سربراہان نے حصہ لیا۔ 17 اہداف اور 169 ذیلی نکات پر اتفاق ہوا۔ ان میں دنیا سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے جیسے فیصلے بھی شامل تھے۔ ان اہداف کے بارے میں تاریخ کیا فیصلہ کرتی ہے یہ ایک کھلا سوال ہے۔

IS-Kämpfer verlassen Palästinenserlager Jarmuk in Damaskus

آئی ایس کی پھیلائی ہوئی تباہی نے متعدد ممالک کو تباہ کر دیا ہے

2015 ء اور اقوام متحدہ: پوپ فرانسس، روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر باراک اوباما تینوں ستمبر میں ہونے والی کانفرنس میں موجود تھے اور عالمی برادری سے ایک کمسن بچہ سامی فریاد کر رہا تھا،’’ ہم دنیا کے بچے بھی بہتر مستقبل کے خواہشمند ہیں‘‘۔

قتل و غارت گری، استحصال، بھوک، مہاجرت سب ہی کچھ جاری ہے اور 2016 ء بان کی مون کا بحیثیت اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل آخری سال ہوگا۔ ممکنہ طور پر ان کی جگہ پہلی بار اس عہدے پر کوئی خاتون فائز ہوں گی۔ دنیا اس کی اُمید بھی کر رہی ہے۔ تب تک انتہائی مایوسی کے شکار بان کی مون کے ان الفاظ کی گونج سنائی دیتی رہے گی،’’بس اب بہت ہو گیا‘‘۔

DW.COM