1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

2015ء، میرکل کے لیے مشکلات کا سال

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو اپنے دور اقتدار کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ مختلف بحرانوں کے بیچ سال 2016ء کا آغاز ان کے لیے نئے امتحانات بھی لائے گا۔

فوکس ویگن اور قومی فٹ بال ایسوسی ایشن کے اسکینڈل، یوکرائن کا تنازعہ، یونان کا مالی بحران، یورو زون کے مسائل اور اس پر مہاجرین کا بحران۔ سن 2015ء جرمنی کے لیے ایک سخت سال ثابت ہوا ہے۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے رواں برس کے آغاز پر یورپ کی مضبوط ترین معیشت کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ اس وقت بالخصوص یوکرائن کے تنازعے پر ان کا مؤقف اور سفارت کاری انتہائی ستائش کا سبب بنی تھی۔ میرکل کو ’یورپ کی ملکہ‘ کے نام سے بھی پکارا گیا اور عالمی سیاست میں انہوں نے اپنی ساکھ کو مزید مضبوط بنا لیا۔

مہاجرین کا بحران

میرکل نے ستمبر میں مہاجرین کی آمد کے لیے کھلی پالیسی کا اعلان کیا تو ان کی اس پالیسی نے جرمنی اور بقیہ یورپ میں اختلافات پیدا کر دیے۔ اگرچہ متعدد لوگوں نے مہاجرین کی پالیسی پر میرکل کے نعرے کا ساتھ یہ کہ کر دیا کہ ’ہم یہ کر سکتے ہیں‘ لیکن ناقدین نے جلد ہی تنقید کا آغاز کر دیا کہ یہ معاملہ بگڑ سکتا ہے۔

جرمن روزنامے ’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ نے مہاجرین کے بحران پر لکھا، ’’یورپ میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے۔‘‘ اس اخبار کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے جرمن چانسلر میرکل نے یورپ کے اتحاد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار کیا ہے لیکن مہاجرین کے بحران پر وہ اس تناظر میں ناکام ہو گئی ہیں۔ یورپی ممالک نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس بحران کے باعث میرکل کو اپنے قدامت پسند اتحاد کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ نے مزید لکھا کہ سال 2015ء کے اختتام پر میرکل کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

اقتصادی معاملات

جرمن معیشت میں ترقی ہوئی ہے لیکن فوکس ویگن کے اسکینڈل نے اس میں اب ایک ہلچل بھی پیدا کر دی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے جرمن چیپٹر کی سربراہ ایڈا ملر کا کہنا ہے کہ فوکس ویگن صرف ایک کمپنی ہی نہیں بلکہ یہ اس سے بڑھ کر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل سے جرمنی کی برآمدات کی ساکھ خراب ہو سکتی ہے کیوں کہ اس سے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

برلن کے ہیرٹی اسکول آف گورننس سے وابستہ ماہر سیاسیات ہینرک انڈرلین کا مؤقف ہے کہ فوکس ویگن اسکینڈل نے یہ شکوک پیدا کر دیے ہیں کہ جرمن ادارے اپنی مصنوعات کے حوالے سے جو دعوے کرتے ہیں، غالبا وہ درست نہیں ہوتے۔ ’’اگر آپ نے ’میڈ ان جرمنی‘ کے لیبل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے تو اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ جرمنی میں بننے والی مصنوعات یقینی طور پر اچھی اور بہترین کوالٹی کی ہوتی ہیں۔ اس سے جرمنی کو اقتصادی حوالے سے نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘

کھیلوں کی دنیا

فوکس ویگن کے علاوہ قومی فٹ بال ایسوسی ایشن کے اسکینڈل کو بھی جرمنی کی بنیادی سماجی اقدار کے حوالے سے متضاد قرار دیا جا رہا ہے۔ ملر کے مطابق، ’’یہ صرف شرم ناک ہی نہیں بلکہ اس سے ہماری جمہوری اقدار کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ عوام کے اس یقین کو بھی ٹھیس پہنچی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں قانون کا بول بالا ہے۔‘‘

تاہم ہینرک انڈرلین اس حوالے سے زیادہ مایوس نہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو معلوم ہو رہا ہے کہ جرمنی بھی دیگر ممالک کی طرح ایک عام ملک ہے، جس کی کچھ کمزرویاں بھی ہیں۔ انہوں نے ایسی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا ہے کہ سال 2015ء میں ابھرنے والے اسکینڈل اور مسائل چانسلر میرکل کے سیاسی کیریئر پر کوئی زیادہ اثر انداز ہو سکتے ہیں۔