1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

2010: پاکستانی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا کردار

سال دو ہزار دس میں پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا سیاسی کردار ملکی منظر نامے پر غالب رہا اور نہ ہی اس برس مذہبی جماعتوں کے دوبارہ سیاسی اتحاد کے لئے کی جانے والی کوششیں بارآور ثابت ہو سکیں۔

default

جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت اہلحدیث اور جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) کی قومی اسمبلی میں عدم موجودگی کے سبب جمعیت علمائے اسلام (ف) وہ واحد جماعت تھی جو پارلیمانی سیاست میں نمایاں دکھائی دی۔ سال کے آخر پر جے یو آئی کی حکومتی اتحادسے علیحدگی نے ملکی سیاست میں وقتی طور پر تلاطلم تو پیدا کیا لیکن اس کے اتحادسے نکلنے کے باوجود حکومت پر زیادہ اثر نہیں پڑا۔ ادھر مبصرین جے یو آئی کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کو ایک سیاسی چال سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ حکومت سے الگ ہونے کے اگلے ہی روز مولانا فضل الرحمان نے تحفظ ناموس رسالت کمیٹی کے زیر اہتمام حکمرانوں کو ذلت آمیز شکست کی دھمکی بھی دی۔

معروف صحافی حامدمیر کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کا مذہبی رنگ صرف اپنے ووٹرز کو متاثر کرنے تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے کہا:’’وہ اپنے آپ کو زرداری صاحب سے کچھ دور کررہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ ایم ایم اے دوبارہ ان کے ساتھ شامل ہو جائے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بظاہرمولانا فضل الرحمن ایک مذہبی سیاستدان ہیں لیکن اگر ان کی سیاست پر غور کریں تو پتہ چلتاہے کہ سیاست میں مذہب کا استعمال وہ کبھی کبھارکرتے ہیں۔عملی طور پر وہ صرف ایک سیاستدان ہیں بس۔‘‘

Pakistan Syed Munawar Hassan

جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا منور حسن

سال دو ہزار دس کے اواخر پر سیالکوٹ کی ایک عیسائی خاتون آسیہ کی طرف سے مبینہ طور پر توہین رسالت کے معاملے پر سزا کے بعد مذہبی جماعتیں بظاہر اکٹھی ہوتی نظر آ رہی ہیں لیکن سول سوسائٹی کے ایک سرگرم کارکن سرور باری کاکہنا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی سیاست کو کبھی بھی پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی۔ اس لئے وہ ایک مرتبہ پھر توہین رسالت کے قانون کے ایشو بنا کر اس پر اپنی سیاست چمکا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ساتھ پاکستان کی عوام بالکل نہیں ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی نام نہاد لبرل اور سیکولر پارٹیاں اپنے اقتدار کی خاطر ان مذہی جماعتوں کے ساتھ سودے بازی کرتی ہیں، جس سے پاکستان میں عسکریت پسندی کا خطرہ موجودرہتا ہے۔‘‘

ہمیشہ کی طرح اس برس بھی مذہبی جماعتوں کے درمیان مسالک کی بنیاد پر اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ اس برس جب مختلف مزارعات پر خودکش حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تو جمعیت علمائے پاکستان نے اس کے خلاف اتحاد قائم کر کے لانگ مارچ کیا۔ جبکہ جے یو آئی کے رہنماء اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے رہے۔ اسی دوران جماعت اسلامی کی قیادت سڑکوں پر مہنگائی، غربت اور قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی جلسوں، مظاہروں اور لانگ مارچ تک محدود رہی۔

جماعت اسلامی کے رہنما سراج الحق کہتے ہیں کہ ان کی جماعت اور جے یو آئی میں بنیادی فرق سیاسی نظریات کا ہے۔ مولانا فضل الرحمن تین سال سے حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد اب اگلے انتخابات میں کامیابی کےلئے دیگر مذہبی جماعتوں کو ڈھال بنانا چاہتے، جو کہ جماعت اسلامی کو قبول نہیں۔ مبصرین کے مطابق ملکی سیاست میں اس وقت مذہبی جماعتوں کا سیاسی اثر ورسوخ بظاہر کم ہوتا جا رہا ہے لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے آپس میں محاذ آرائی کشیدگی کی سیاست جاری رکھی تو پھر مذہبی جماعتوں کے سیاسی کردار بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

رپورٹ: شکوررحیم، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM