1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

2010ء: نیا سال ، نئی امیدیں

دنیا بھر میں نئے عیسوی سال کا آغاز ایک نئے خوبصورت جذبے کے تحت کیا گیا ہے، جس میں بہتری کی امید کا عنصر غالب ہے۔

default

سنگا پور میں آتش بازی کا منظر

نئے سال کے استقبال کی رنگا رنگا دلفریب تقریبات کا آغاز سب سے پہلے نیوزی لینڈ میں ہوا، جہاں آک لینڈ کے سکائی ٹاور پر آتشبازی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔

آسٹریلیا میں نئے سال کی سب سے بڑی تقریب سڈنی ہاربر برج پر ہوئی۔ وہاں آتش بازی کا مظاہرہ بارہ منٹ تک جاری رہااور اس پر دو لاکھ چونسٹھ ہزار آسٹریلوی ڈالر لاگت آئی ۔ اس موقع پر پندرہ لاکھ افراد سڈنی میں موجود تھے۔

پیرس میں نئے سال کی مرکزی تقریب آئفل ٹاور پر، جبکہ لندن میں دریائے ٹیمز کے کنارے لندن آئی پر منقعد ہوئی۔

Silvester 2009 2010 Frankreich

پیرس میں بھی نئے سال کی تقریبات بھرپور طریقے سے منائی گئیں

امریکہ میں نیویارک کا ٹائمز سکوائر نئے سال کی سب سے اہم استقبالیہ تقریب کا مرکز رہا جہاں تقریبا دس لاکھ افراد جمع ہوئے، جنہوں نے نئے سال کی اس رنگا رنگ پروگرام میں حصہ لیا۔

عالمی رہنماؤں نے نئے سال کے آغاز کے موقع پر امید ظاہر کی ہے کہ دوہزار نو میں جن ممالک کو مشکلات کا سامنا رہا، ان کے لیے نیا سال نئی امید ثابت ہو گا ۔ ٰفرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے اپنے پیغام میں کہاکہ ختم ہونے والا سال ہر کسی کے لئے مشکل تھا۔ کوئی بھی براعظم ،کوئی ملک ،کوئی شعبہ ان مشکلات سے نہیں بچ سکا ۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ یہ سال جرمنی کے لیے بہت اہم ہے اور اس سال فیصلہ ہوگا کہ جرمنی اقتصادی بحران پر کس طرح قابو پاتا ہے۔

بہت سے ممالک نے اپنے پیغامات میں مثبت رویہ روا رکھا ہے۔ اس کی ایک مثال شمالی کوریا ہے، جس نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں محاذ آرائی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

جزیرہ نما کوریا کا کہنا ہے کہ کوریا اور پورے ایشیا میں امن کو یقینی بنانے کے لیے شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیاں محاذ آرائی کا خاتمہ ناگزیر ہے جبکہ اس مد میں باراک اوباما بھی مثبت رویہ رکھتے ہیں۔

لیکن دوسر ی جانب دیکھا جائے تو جہاں پاکستان میں نئے سال کے آغاز کو بھر پور پزیرائی ملی اور اِس موقع پر بے حد خوشی کا اظہار کیا گیا، وہاں امریکی ڈرون حملے باعث تشویش بھی رہے۔

گزشتہ برس کے آخری روز ہونے والے ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے جبکہ سال کی پہلی صبح تقریبا پونے نو بجے ہونے والے خود کش حملے میں تین ہلاکتیں ہوئیں۔ گویا پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کا یہ سلسلہ دو ہزار دس میں بھی تواتر سے جاری رہتا نظر آتا ہے۔

اسی دوران سیکیورٹی کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں عالمی ادارے یا اس کی ذیلی تنظیموں کے کارکنوں کوآئندہ چھ ماہ کے لیے زیادہ تر یا تو ملک سے باہر بھیج دیا جائے گا یا پھر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جائے گا ۔ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے اور خاص طور پر پاکستانی عوام کے لیے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

Raketen Pakistan

پاکستانی عوام میں ڈرون حملوں کے خلاف شدید اعتراضات پائے جاتے ہیں

نئے سال کے آغاز پرامید اور روشنی کی کرن کی تلاش تو بہرحال جاری رہے گی ہی اور رہنی بھی چاہیے مگر اس سال کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ رات دنیا بھر کے عوام نے ایک ایسا منظر دیکھا، جو اس سے پہلے انیس سال قبل نظر آیا تھا۔ عام طور پر ہر سال بارہ مکمل چاند دیکھنے میں آتے ہیں لیکن گزشتہ سال کا آخری چاند بھی چودہویں کا چاند تھا۔ اس طرح دوہزار دس میں مکمل چاند نظر آنے کی تعداد تیرہ ہو جائے گی ۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جو شازونادر ہی ہوتی ہے کہ خصوصاً سال کا آخری چاند چودھویں کا چاند ہو ۔ اِس سے قبل ایسا 1990ء میں ہوا تھا اور اب دو ہزار اٹھائیس سے پہلے نہیں ہو گا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امجد علی