1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

2010ء: قدرتی آفات میں نقصان کے اعتبار سے ریکارڈ سال

2010ء میں ہیٹی کے ہولناک زلزلے میں دو لاکھ بیس ہزار سے زیادہ انسان لقمہء اجل بن گئے۔ پاکستان میں سیلاب کے باعث لاکھوں انسان بے گھر ہو گئے اور روس میں گرمی کی لہر کے باعث بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔

default

2010ء: پاکستان کا ہولناک سیلاب

اکیسویں صدی کا شدید زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں سے عبارت پہلا عشرہ اختتام پذیر ہو چکا ہے تاہم اِس عشرے کا آخری سال خاص طور پر ہولناک رہا۔

آفات کے دوران وبائی امراض پر تحقیق کا مرکز CRED عالمی ادارہء صحت کے کہنے پر آفات سے متعلق اعداد و شمار جمع کرتا ہے اور اُن کا تجزیہ کرتا ہے۔ اِس ادارے کی خاتون ڈائریکٹر دیبارتی گُوہا زاپیر بتاتی ہیں: ’’2010ء میں آفات کی تعداد تو کم و بیش اُتنی ہی تھی، جتنی کہ گزرے برسوں کے دوران لیکن گزشتہ سال اَموات سب سےزیادہ ہوئیں۔ دو تہائی سے بھی زیادہ ہلاکتیں صرف ہیٹی کے زلزلے میں ہوئیں۔ ہر سال کوئی نہ کوئی ایک بڑی آفت ایسی آتی ہے، جو اَموات کی مجموعی تعداد کو بہت اوپر لے جاتی ہے۔‘‘

Waldbrände in Russland Flash-Galerie

2010ء میں روس میں فائر بریگیڈ کا عملہ جنگلات میں لگی آگ بجھانے کی کوششیں کر رہا ہے

گزرے سال کے دوران دُنیا بھر میں قدرتی آفات کے نتیجے میں تقریباً تین لاکھ انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔ متاثرین کی تعداد 200 ملین سے بھی زیادہ رہی۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کی املاک تباہ ہو گئیں، جو اپنا سارا اثاثہ کھو بیٹھے یا جو زخمی ہو گئے۔

CRED نامی اِس تنظیم کے مطابق گزشتہ تقریباً دَس برسوں سے قدرتی آفات کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ موسموں میں شدت کے اِن واقعات میں سے چند ایک کے لیے بہرحال موسمیاتی تبدیلیوں کو قصور وار قرار دیا جا سکتا ہے۔ مارگریٹا واہل سٹروئم آفات سے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی خصوصی مندوب ہیں۔

China Erdbeben

2010ء: چین میں زلزلے کی تباہ کاریاں

وہ بتاتی ہیں:’’چند سال پہلے مَیں نےآب و ہوا اور موسموں کے ماہرین سے یہ پوچھا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کیا ہوں گے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ ہم سب کو موسموں کے انتہائی شدید اور غیر متوقع عوامل کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ جو کچھ ہم نے 2010ء میں دیکھا، اُس نے یہ بات ثابت کر دی ہے اور مجھے یہ رجحان جاری رہتا نظر آتا ہے۔ ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ مستقبل میں ایسے ہی حالات پیش آئیں گے۔‘‘

2010ء میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے براعظم ایشیا پہلے نمبر پر رہا، جہاں چین میں زلزلہ آیا اور زمینی تودے گرنے کے واقعات پیش آئےجبکہ پاکستان میں سیلاب نے تباہی مچائی۔ روس میں گزشتہ برس گرمی کی شدید لہر نے 55 ہزار انسانوں کی جان لی۔ مغربی اور جنوبی یورپ میں گرمی کی ایسی شدید لہر 2003ء میں دیکھنے میں آئی تھی۔

2010ء میں پوری دُنیا میں آفات کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں میں مالی نقصانات کا تخمینہ مجموعی طور پر 110 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ چلی اور چین میں زلزلوں کے باعث سب سے زیادہ مالی نقصان ہوا۔ ہیٹی میں جانی نقصان بے پناہ تھا لیکن مالی نقصان حدوں کے اندر رہا کیونکہ یہ ملک ویسے ہی انتہائی غریب ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس