1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

2009ء کے دوران جہان مغرب میں کیا کچھ ہوا

گزشتہ برس یورپی ملک جرمنی میں انگیلا میرکل دوسری مرتبہ کے لئے وفاقی چانسلر منتخب ہوئیں، اٹلی میں تباہ کن زلزلہ آیا جبکہ ڈنمارک میں اقوام متحدہ کے تحت عالمی ماحولیاتی کانفزنس منعقد ہوئی جو توقعات پر پوری نہ اترسکی۔

default

سال 2009ء کے دوران یورپ میں بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے۔ اقتصادی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ سے آئس لینڈ کی حکومت نے استعفٰی دے دیا، تو امریکی صدر باراک اوباما نے پراگ میں پہلی مرتبہ یورپی رہنماؤں سے ملاق‍ات کی۔ ایک طرف لزبن ٹریٹی منظور ہوئی تو دوسری جانب عالمی ماحولیاتی کانفرنس سے لگائی جانے والی امیدیں، پوری نہ ہو سکیں۔


یکم جنوری 2009ء سے یورپی یونین کی ششماہی صدارت چیک ریپبلک کو سونپ دی گئی۔ سلوواکیہ نے اپنے ہاں یورپی کرنسی یورو رائج کی، اس طرح یورو زون میں شامل ملکوں کی تعداد سولہ ہوگئی۔ 2009ء اپنے ساتھ ایک نئی بحث لےکر آیا تھا۔ وہ تھی نوجوانوں میں تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں۔ اس حوالے سے یورپی سطح پر تشدد کے مناظر والے ویڈیو گیمز پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ تاہم اسی تناظر میں مارچ کا مہینہ جرمنی کے لئے کچھ اچھا ثابت نہ ہوا۔ اس ماہ کی گیارہ تاریخ کو ملک کے جنوبی قصبے Winnenden میں واقع ایک ہائی اسکول میں اندھا دھند فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا، جس میں دس طالب علموں سمیت کم از کم سولہ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کی وجہ سے جرمنی بھر میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور ایک مرتبہ پھر حکومتی حلقے اسکولوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کی روک تھام کے بارے میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ آخر اس پرکس طرح قابو پایا جا سکتا ہے؟ وننڈن کے حملہ آور کی عمر سترہ برس تھی اور وہ ماضی میں اسی اسکول کا طالب علم رہ چکا تھا۔

Jahresrückblick 2009 Amoklauf in Winnenden

وننڈن میں فائرنگ کرنے والا ملزم اسی اسکول کا طالب علم تھا


چار اپریل کو ڈنمارک کے وزیراعظم آندرس فوگ راسموسن کو نیٹو کا نیا سیکریٹری جنرل منتخب کر لیا گیا۔ 56 سالہ راسموسن تین مرتبہ ڈنمارک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور نیٹو اتحاد کی سربراہی کرنے والے سینیئر ترین سیاست دان ہیں۔ سیکریٹری جنرل کے طور پر راسموسن کی ذمہ داریوں میں مغربی دفاعی اتحاد کی کارکرگی کو مربوط بنانے کے ساتھ ساتھ اس تنظیم کے عملے کی قیادت اور شمالی اوقیانوسی کونسل کی صدارت بھی شامل ہے، جو سیاسی سطح پر نیٹو کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے نئے سربراہ نے یکم اگست سے اپنا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ ڈنمارک کے سابق وزیراعظم نے سال 2006ء میں اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبر اسلام کے بہت متنازعہ خاکے شائع کئےجانے کا دفاع کیا تھا۔ اس معاملے پر معذرت نہ کرنے کی بناء پر انقرہ حکومت نے اُنہیں دفاعی اتحاد کی قیادت سونپے جانے پر اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا تھا۔

L'Aquila Erbeben



اپریل کے مہینے میں ہی اٹلی کے شہر لا کیلا میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وسطی اٹلی میں ریکٹر سکیل پر 6.3کی شدت کے آنے والے اس زلزلے کے بعد 50 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے۔ لاکیلا تاریخی عمارات کا حامل ایک قدیم شہر ہے، جو پہاڑی علاقے ابرازو کا دارالحکومت ہے۔ یہ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اِس کے جھٹکے روم میں بھی محسوس کئے گئے۔ اسی سال جولائی میں اٹلی کے شہرلاکیلا میں دنیا کے آٹھ اہم اور طاقتور ترین ملکوں کے گروپ جی ایٹ کی سربراہ کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں دنیا کے غریب ممالک کے زرعی شعبے کے لئے بیس ارب ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا۔


اسی دوران سال کا وَسط آن پہنچا۔ عالمی اقتصادی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا تھا۔ امریکی موٹر ساز ادارے جنرل موٹرز کا یورپ میں ذیلی ادارہ اوپل شدید مالی مشکلات سے دوچار تھا۔ جرمن حکومت کی جانب سے موٹر ساز صنعت کو بچانے کے لئے ریاستی پریمیئم کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے تھے۔ اسپورٹس کار بنانے والے جرمن ادارے پورشے نے، یورپ کے سب سے بڑی موٹر سازکمپنی فولکس ویگن کو خریدنے کی ناکام کوشش کی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ اُلٹا فولکس ویگن نے پورشےکوخرید لیا۔

اسی دوران یکم جولائی سے سویڈن نے اگلے چھ ماہ تک کے لئے یورپی یونین کی صدارت سنبھالی۔ سویڈن نے بطور صدر ملک اگلی ششماہی کےدورا ن بہت سی منازل طے کرنا تھیں، لیکن ساتھ ہی مسائل کا ایک انبار بھی ان کے سامنے تھا۔ یورپی یونین کے لزبن معاہدےکی منظوری کا مسئلہ، یورپی کمیشن کی تبدیلی، یونین کے رکن ممالک کے مابین یورپی پارلیمان کے اہم عہدوں کے لئے کھینچا تانی اور دسمبر میں کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس۔ سویڈن کے ایک اخبار میں غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی جانب سے مبینہ طور پر جنگی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بعد ان دونوں ممالک کے دوران سفارتی کشیدگی بھی پیدا ہوگئی تھی۔

Bundeskanzlerin Angela Merkel

انگیلا میرکل کی جماعت سی ڈی یو کو تقریباً چونتیس فی صد ووٹ ملےتھے۔

ستمبرکا مہینہ جرمنی کی سیاست کے لئے انتہائی اہم تھا۔ اس سال یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت میں پارلیمانی انتتخابات منعقد ہوئے۔ ملک کی مخلوط حکومت میں شامل بڑی جماعتوں کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، دونوں کے لئے یہ ایک امتحان کی گھڑی تھی۔ بہرحال ستائیس ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں سی ڈی یو یا کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی تقریباً چونتیس فی صد ووٹ کے ساتھ کامیاب قرار پائی۔ اس طرح انگیلا میرکل دوسری مدت کے لئے جرمن چانسلر منتخب ہوئیں۔دوسری جانب ایس پی ڈی یا سوشل ڈیموکریٹکس کو صرف 22.5 فیصد ملے، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اس کی خراب ترین کارکردگی ہے۔ FDP کو 15 فیصد ووٹ ملے، جو اس کی اب تک کی سب سے بہترین کارکردگی ہے۔


یورپی یونین کو لڑبن ٹریٹی کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ آئرلینڈ کے عوام کی جانب سے اس اصلاحاتی معاہدے کی خلاف ووٹ دیئے جانے کے بعد یہ بحران اور بھی شدید ہوگیا۔ بہر حال اس سال وہاں ایک اور ریفرنڈم کرایا گیا اور آئرش عوام نے اس ٹریٹی کے حق میں ووٹ دیا۔ ادھر اس کے نافذ کئے جانے کی آخری رکاوٹ بھی اس وقت دور ہو گئی جب تین نومبر کو بالآخر چیک جمہوریہ کے صدر واسلاو کلاؤس نے یورپی یونین کے لزبن معاہدے کی دستاویز پر دستخط کر دئے۔ دریں اثناء یورپی کمیشن کے صدر نے کہا کہ لزبن معاہدے پر رواں سال دسمبر یا آئندہ سال جنوری سےعمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

Vereidigung von Herman Van Rompuy Neuer Premierminister Belgien

بیلجئم کے وزیراعظم ہیرمن فان رومپئے

تاہم یورپ کو سیاسی طور پر مزید مضبوط اور متحد کرنے کے اس معاہدے پرعملدرآمد کا سلسلہ یکم دسمبر سے شروع ہوگیا۔ لزبن ٹریٹی کے تحت یورپی صدر کا ایک نیا عہدہ تشکیل دیا گیا۔ یہ عہدہ ابتدائی ڈھائی سال کے لئے ہے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ پہلے سے موجود یونین کے خارجہ امور کے سربراہ کو مزید اختیارات دئے جائیں گے۔ اصلاحات کے لزبن معاہدے کی حتمی منظوری کے بعد بیلجیئم کے وزیراعظم ہرمن فان رومپوئے کو کونسل آف یونین کا پہلا صدر جبکہ برطانوی خاتون سیاست دان کیتھرین ایشٹن کو خارجہ امور کے سربراہ کے لئے نامزد کیا گیا۔ یونین کے صدر نامزد ہونے کےبعد رومپوئے نےکہا:’’ہر یورپی ملک کی اپنی تاریخ اور تہذیب ہے اور وہ اسی تناظر میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے۔‘‘


اب ذکر نومبر 1989ء کا۔ جرمنی کے مشرقی اور مغربی حصوں میں ہزاروں افراد ٹیلی وژن پر خبریں دیکھ رہے ہیں۔ جرمن ڈیموکریٹک ری پبلک یا GDR کہلانے والی مشرقی جرمن ریاست میں شہری کئی مہینوں سے سفرکی زیادہ آزادی اور جمہوری طرز عمل کے حق میں مظاہروں کی وجہ سے لوگوں کی خبروں میں دلچسپی بھی زیادہ ہے۔ اُس وقت ٹیلی ویژن پر GDR کی حکومت کے ترجمان گُنٹر شابوفسکی نے پریس کانفرنس کے دوران یہ ذکر کیا کہ عام شہریوں پر لاگو ہونے والے نئے سفری قوانین منظور کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا "حکومت نے ایک ایسا نیا ضابطہ منظور کیا ہے، جس کے تحت GDR کے ہر شہری کے لئے یہ ممکن ہو گا کہ وہ اس ریاست کی سرحدی گزرگاہیں عبور کر سکتا ہے۔"

10.2009 DW-TV hin und weg KW41 06_Berliner-Mauer

دیوار برلن نے اٹھائیس برس تک مشرقی اور مغربی جرمنی کو الگ کئے رکھا تھا۔

چند ہی لمحوں میں یہ حیران کن خبر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ پھر برلن شہر کے مختلف حصوں سے گزرنے والی طویل دیوار اپنے قیام کے اٹھائیس برس بعد کئی جگہ سے کھول دی گئی۔ پہلی مرتبہ مشرقی جرمن شہریوں کو یہ اجازت بھی مل گئی کہ وہ کوئی وجہ بتائے بغیر سرحد عبور کر کے مغربی جرمنی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ نتیجتاﹰ جرمنی کے دونوں منقسم حصے ایک بار پھر متحد ہوگئے۔ نو نومبر 1989ء کو جرمنی کی جدید تاریخ کا خوش قسمت ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ سال 2009ء میں دیوارِ برلن کے انہدام کی بیسویں سالگرہ منائی گئی۔ برلن میں ہونے والی مرکزی تقریب میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنماؤں سمیت امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور روس کے سابق صدر میخائل گورباچوف نے بھی شرکت کی۔


سال 2009ء کے دوران ایک ایسی کانفرنس کا انعقاد ہونا تھا، جس پر پوری دنیا کے مستقبل کا دارومدار تھا۔ ہر ملک اور ہر رہنما کی نظریں اس کانفرنس پر لگی ہوئی تھیں۔ اسی وجہ سے طویل عرصے سے اس کی تیاریاں جاری تھیں۔ سات دسمبر کوجب یہ عالمی کانفرنس شروع ہوئی تو امیدوں کے پہاڑ کھڑے تھے۔ کانفرنس جیسے جیسے آگے بڑھتی گئی تو اس سے وابستہ امیدیں کم ہوتی گئیں۔ اٹھارہ دسمبر کے دن جب یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی، تو عالمی سربراہ صرف ایک محدود معاہدے پر ہی متفق ہو سکے۔ بات ہو رہی تھی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی جو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منعقد ہوئی۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نےکانفرنس کےنتائج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تحفظ ماحول کے حوالے سے جس معاہدے پر اتفاق ہوا، اسے غریب ملکوں کی حکومتوں، ماحول کے لئے کام کرنے والی تنظیوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا موقف ہے کہ کانفرنس کے نتائج اتنے مبہم ہیں کہ ان سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا اور سالوں سے جاری تیاریوں اور امیدوں پر ایک دم پانی پھر گیا۔

رپورٹ :عدنان اسحاق

ادارت: امجد علی