1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

2006-10 : اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک بھارت، سپری

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اسلحہ خریدنے کے حوالے سے بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ اس بات کا انکشاف SIPRI نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کا نمبر تیسرا بنتا ہے۔

default

پیر کے دن ہتھیاروں پر تحقیق کرنے والے معروف تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، سپری کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اسلحہ خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے،’ بھارت نے 2006 تا دس کے دوران دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحہ کا نو فیصد خریدا‘۔ گزشتہ پانچ سالہ رپورٹ کے مقابلے میں بھارتی حکومت کی طرف سے اسلحہ خریدنے کی شرح میں اکیس فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق اسلحہ خریدنے والے دیگر سب سے بڑے ممالک میں چین اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں جبکہ پاکستان کا نمبر تیسرا ہے۔ جنوبی کوریا اور چین نے پانچ برسوں کے دوران عالمی سطح پر فروخت ہونے والے اسلحے کا چھ چھ فیصد جبکہ پاکستان نے پانچ فیصد درآمد کیا۔ سن 2001 تا پانچ کے مقابلے میں گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستان کی طرف سے اسلحہ خریدنے کی شرح میں 128 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Indische Armee bei einer Übung

بھارتی کمانڈوز تربیت کے دوران

سپری سے وابستہ سیمون ویزرمن کے بقول بھارت کی طرف سے روایتی اسلحہ خریدنے کے محرکات میں چین اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے علاوہ اس کے سکیورٹی سے جڑے داخلی مسائل بھی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں اسلحہ فروخت کرنے والے سب سے بڑے ملک کا اعزاز اس مرتبہ بھی امریکہ کے پاس ہی ہے۔ جس نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران عالمی سطح پر فروخت ہونے والے اسلحہ کا 30 فیصد حصہ برآمد کیا۔ اس فہرست میں روس دوسرے جبکہ جرمنی تیسرے نمبر پر ہے۔ روس نے پانچ سالوں کے دوران عالمی سطح پر فروخت ہونے والے اسلحہ کا 23 فیصد جبکہ جرمنی نے گیارہ فیصد اسلحہ برآمد کیا۔

سپری کے اعداد وشمار کے مطابق اس مرتبہ دنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرنے کی شرح میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سپری ہر پانچ برس بعد ایسی ایک رپورٹ شائع کرتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ دنیا میں اسلحہ کی دوڑ کس سمت جا رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس