1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

1980 کے مقابلے میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد دو گنا

ایک تازہ تحقیق کے مطابق 1980ء کے بعد سے اب تک دنیا بھر میں ذیابیطس کے شکار بالغ افراد کی تعداد دو گنا سے بھی بڑھ چکی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں تقریباﹰ 350 ملین افراد ذیابیطس کے مریض ہیں۔

default

طبی تحقیقی جریدے 'Lancet Medical Journal' میں ہفتہ 25 جون کو چھپنے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق 1980ء میں دنیا بھر میں ایسے بالغ افراد کی تعداد 153 ملین تھی جو ذیابیطس کا شکار تھے۔ یہ تعداد 2008ء میں بڑھ کر 347 ملین تک پہنچ چکی تھی۔

لندن کے امپیریل کالج اور ہاورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 25 برس سے زائد عمر کے 2.7 ملین افراد کے خون کے ٹیسٹوں کی تاریخ کا تجزیہ کیا۔ پوری دنیا سے حاصل کردہ خون کی ان رپورٹوں کی روشنی میں ان سائنسدانوں نے ذیابیطس کے شکار کُل مریضوں کی تعداد کا اندازہ لگایا۔

ذیابیطس کا مرض خون میں موجود شوگر کی مقدار قابو میں نہ رہنے کے باعث ہوتا ہے۔ یہ مرض دل کے دورے کا سبب بننے کے علاوہ گردوں، اعصابی نظام اور بینائی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ ذیابیطس اور ہائی بَلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون ہر سال 30 لاکھ افراد کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔

سائنسدانوں نے 25 برس سے زائد عمر کے 2.7 ملین افراد کے خون کے ٹیسٹوں کی تاریخ کا تجزیہ کیا

سائنسدانوں نے 25 برس سے زائد عمر کے 2.7 ملین افراد کے خون کے ٹیسٹوں کی تاریخ کا تجزیہ کیا

ماہرین کے مطابق وزن کی زیادتی کے علاوہ ذیابیطس کے بڑھتے مریضوں کی تعداد کا ایک اور سبب اوسط انسانی عمر میں ہوتا ہوا اضافہ بھی ہے، خاص طور خواتین میں۔ اس تحقیق میں معاونت کرنے والے امپیریل کالج لندن کے محقق ماجد عزتی کے بقول: ’’ہماری تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس تقریباﹰ تمام دنیا میں ہی عام ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا ہے: ’’ یہ نتائج بلند فشار خون اور کولیسٹرول کے برخلاف ہیں، کیونکہ دنیا کے بعض علاقوں میں ان میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ذیابیطس سے بچنا اور اس کا علاج بلند فشار خون اور کولیسٹرول کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘‘

اس تازہ تحقیق کے مطابق ذیابیطس کی شرح پیسیفک جزائر کی اقوام میں زیادہ بڑھی ہے۔ مارشل جزائر پر ہر تین میں سے ایک خاتون اور ہر چار میں سے ایک مرد کو یہ مرض لاحق ہے۔ دوسری طرف مغربی یورپی ممالک میں ذیابیطس پھیلنے کی شرح نسبتاﹰ کم ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس