1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

1938 میں نازیوں کے یہودیوں کی املاک پر حملوں کی 70 ویں برسی

نو اوردس نومبر 1938 کی درمیانی شب نازیوں نے یہودیوں، ان کی املاک اورعبادت گاہوں پر حملوں کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اُسے کرسٹال ناخت کا نام دیا گیا تھا اور آج اتوار کے روز ان واقعات کے ٹھیک 70 برس پورے ہورہے ہیں۔

جرمنی میں ہر سال ان المناک اور سامیت دشمن واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے، سماجی سطح پر تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور پارلیمانی سطح پر بھی ان قابل مذمت واقعات کی یاد کو زندہ رکھا جاتا ہے جن کا محرک نازی جرمن دور کی یہودیوں سے نفرت کی سوچ بنی تھی۔

آج کے جرمنی میں ان واقعات کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ ٹھیک سات عشرے قبل ان حملوں میں بچ رہنے والے اور ابھی تک زندہ افراد اس رات کے حوالے سے اپنے کیا تجربات بیان کرتے ہیں اوریہ بھی کہ آیا موجودہ وفاقی جمہوریہ جرمنی میں اکثر شہری یہ جانتے ہیں کہ 1938 کی اس رات کیا ہوا تھا۔

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا مریکل نے 1938 میں نازیوں کی طرف سے یہودیوں اور ان کی املاک پر حملوں کی 70 ویں برسی کے موقع پراپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جرمن عوام کو نسل پرستی اور سامیت دشمنی کی، چاہے وہ کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں ہو، کھل کر مذمت کرنا چاہیئے۔ اس پس منظر میں اپنے ہفتہ وار ویڈیو پیغام میں چانسلر میرکل نے کہا کہ عرف عام میں کرسٹل نائٹ کہلانے والی اس رات کے واقعات کےکسی بھی طور دوہرائے جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

آج اتوار کے روز اسی حوالے سے پورے جرمنی میں بہت سی یادگاری تقریبات بھی منعقد کی جارہی ہیں۔

Audios and videos on the topic