1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

19 یمنی یہودی اسرائیل پہنچ گئے، 50 کا یمن چھوڑنے سے انکار

یمن کی یہودی کمیونٹی وہاں دو ہزار سے آباد چلی آ رہی ہے۔ اب اسرائیل نے جنگ کی زَد میں آئے ہوئے اس ملک سے اُنیس یمنی یہودیوں کو بچا کر اسرائیل پہنچا دیا ہے۔ تقریباً پچاس نے آئندہ بھی یمن ہی میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔

Israel Jerusalem Klagemauer Gemischte Gebetszone

یروشلم میں یہودیوں کے مقدس ترین مقام کے قریب عبادت کرتے یہودی

نیوز ایجنسی روئٹرز نے یہ خبر امیگریشن حکام کے حوالے سے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یمنی شہر ریدہ سے سترہ یمنی یہودی اتوار کو اسرائیل پہنچے۔ ان سترہ میں وہ شخص بھی شامل ہے، جو یمن میں بیک وقت رابی بھی تھا اور یہودیوں کے انداز میں جانوروں کو ذبح کرنے کا کام بھی سرانجام دیتا تھا۔ حکام نے بتایا ہے کہ اُس نے اپنے ہاتھوں میں تورات کا ایک پانچ سو سالہ نسخہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ دو یمنی یہودی اس سے چند روز پہلے ہی اسرائیل پہنچ گئے تھے۔

یمن سے تورات کے اس قدیم نسخے کا چلے جانا ایک اعتبار سے یمن میں اُس یہودی کمیونٹی کے خاتمے کے مترادف ہے، جو صدیوں تک اپنے مسلمان ہمسایوں کے ساتھ رہتی رہی ہے۔ لیکن اب اس کمیونٹی کے ارکان کو جنگ اور بدامنی کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنا پڑ رہا ہے۔

شیعہ حوثی باغیوں نے 2014ء میں یمنی دارالحکومت صنعاء کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ یمنی یہودیوں کا کہنا ہے کہ تب سے اُنہیں ’امریکا مردہ باد‘ اور ’اسرائیل مردہ باد‘ کے نعرے لگانے والے ان باغیوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔

Natan Scharansky

نیم سرکاری جیوئش ایجنسی فار اسرائیل کے سربراہ ناتان شارانسکی

روئٹرز کے مطابق اسرائیل جزوی طور پر نازی ہولوکاسٹ سے زندہ بچ رہنے والے یہودیوں کے لیے قائم کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں اسرائیلی حکومت دیگر ملکوں سے بھی بڑے پیمانے پر یہودیوں کو لا لا کر اسرائیل میں آباد کرتی رہی۔ یمن سے بھی 1949ء میں کوئی چالیس ہزار یہودی اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔

نیم سرکاری جیوئش ایجنسی فار اسرائیل کے سربراہ ناتان شارانسکی کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی کمیونٹی کے باقی ماندہ ارکان کی اسرائیل منتقلی ایک انتہائی اہم واقعہ ہے اور ان سترہ افراد کی منتقلی کے ساتھ ہی عشروں سے چلا آ رہا یہ مشن اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔

اس ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً پچاس یمنی یہودیوں نے یمن ہی میں قیام کو ترجیح دی ہے۔ ان میں وہ کم از کم چالیس یہودی بھی شامل ہیں، جو صنعاء میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک عمارت میں مقیم ہیں اور یمنی حکومت کی حفاظت میں ہیں۔

انتہائی قدامت پسند یمنی یہودی کمیونٹی کے کچھ ارکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل یا کسی اور ملک میں اُن کی روایتی قدروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یمن کے ساتھ ساتھ ایتھوپیا سے بھی بڑی تعداد میں یہودیوں کو اسرائیل پہنچایا جا چکا ہے۔ کئی خفیہ آپریشنز کے ذریعے ایسے عرب یا مسلمان ملکوں سے بھی یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا جا چکا ہے، جن کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی روابط نہیں ہیں۔

DW.COM