1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

18 ویں ترمیم: درخواستوں پر سماعت

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اٹھارہویں ترمیم کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت پیر تک جبکہ این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت سات جون تک ملتوی کر دی ہے۔

default

پاکستان میں سپریم کورٹ نے حکومت کی درخواست پر اٹھارہویں ترمیم کے تحت اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت اکتیس مئی جبکہ این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت سات جون تک ملتوی کر دی۔

پیر کے روزچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے سترہ رکنی فل بنچ نے اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کا آغاز کیا تو حکومتی وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے تحریری جواب داخل کرنے کے لئے مہلت دینے اور سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جواب دعویٰ داخل کیوں نہیں کرایا گیا ، یہ عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا کیس ہے، ہم یہ سمجھیں گے کہ تحریری جواب داخل نہ کرانے کا مطلب ہے کہ حکومت اس مقدمے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت کے نوٹس پر ہیں،آپ کو کسی فریق کی طرف سے مقدمہ لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، اگر آپ اٹھارہویں ترمیم سے متعلق تمام دستاویز عدالت میں نہیں پیش کر سکتے تو جو چیزیں خفیہ ہیں انہیں چیمبر میں دیکھ لیں گے۔

سپریم کورٹ نے اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے تمام اجلاسوں اور پارلیمنٹ میں اٹھارہویں ترمیم پر بحث سے متعلق اجلاسوں کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

Iftikhar Chaudhry

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

اٹھارہویں ترمیم کے تحت اعلی عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کو چیلنج کرنے والے ایک درخواست گزار ندیم احمد کے وکیل بیرسڑاکرم شیخ نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی حکومت کو جواب د اخل کر انے کے لئیے پندرہ دن کی مہلت دی تھی جس پر عمل نہیں ہوا۔

اکرم شیخ کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ اس مقدمے کی کارروائی جلد ہو لیکن اس کے با وجو د انہیں عدالت عظمیٰ کی جانب سے حکومت کو سات دن کی مزیدمہلت دینے پر اعتراض نہیں تاکہ جب بھی اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ ہو تو وہ حکومت سمیت تمام فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔

عدالت عظمٰی کے سترہ رکنی لارجر بنچ نے پیر ہی کے روز قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او کے خلاف عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کے لئے دائر درخواستوں کی بھی سماعت کی ۔

دوران سماعت حکومتی وکیل کمال اظفر نے عدالت کو بتایا کہ انھیں اس مقدمے کے متعلق حکومت کی جانب سے دستاویزات ایک روز قبل ملی ہیں اس لیے ان دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور ان پر ملکی اور بین الاقوامی ماہرین سے مشاورت کرنے کے لئے مزید مہلت درکار ہے۔ اس پر عدالت نے حکومتی وکیل کو سات جون کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمے کی سمایت ملتوی کر دی۔

رپورٹ: شکور رحیم ،اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM