1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

13 سالہ لڑکے کو تشدد کر کے قتل کرنے والے چار افراد کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے ایک 13 سالہ لڑکے کو بہیمانہ تشدد کر کے ہلاک کرنے والے چار افراد کو موت کی سزا سنا دی ہے۔ اس لڑکے پر تشدد کی فلم سوشل میڈیا پر جاری ہونے کے بعد اس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

بنگلہ دیشی عدالت نے رواں برس آٹھ جولائی کو کیے جانے والے اس جرم میں قمر الاسلام، تاج الدین بادل، مویانا اور ذاکر حسین کو موت کی سزا سنائی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس موقع پر کمرہء عدالت لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ وکیل استغاثہ مفور علی کے مطابق ان مجرمان نے ملک کے شمالی شہر سلہٹ میں 13 سالہ لڑکے شیخ سمیع عالم کو شدید تشدد کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔

سمیع عالم اسکول سے ڈراپ آؤٹ ہونے کے بعد سبزیاں فروخت کرتا تھا۔ اس نوعمر لڑکے کو لوگوں کے ایک گروپ نے ایک رکشہ چوری کرنے کے شبے میں ایک کھمبے سے باندھ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم تفتیش کاروں کے مطابق یہ الزام غلط تھا۔

ڈی پی اے کے مطابق جج نے اس مقدمے میں چھ دیگر افراد کو قید کی سزا سنائی جبکہ تین دیگر کو اس مقدمے سے بری کر دیا۔ لڑکے پر تشدد کرنے والوں میں سے ایک شخص نے اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے اس تشدد کی فلم بنائی جو انٹرنیٹ پر ہر طرف پھیل گئی۔

سمیع عالم کے قتل پر بنگلہ دیش بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا

سمیع عالم کے قتل پر بنگلہ دیش بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا

قتل کیے جانے والے لڑکے کے والد شیخ عزیز الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس سزا پر خوش ہے: ’’جب ان لوگوں کو پھانسی دی جائے گی تو میرے بیٹے کی روح سکون میں آ جائے گی۔‘‘

بنگلہ دیش ہی کے ایک جنوب مغربی ضلع کھلنا کی ایک عدالت نے دو افراد کو ایک 12 سالہ لڑکے کے پیٹ میں ہوا بھر کے اسے قتل کر دیا تھا۔ آپس میں رشتہ دارمحمد شریف اور منٹو میاں نے رواں برس تین اگست کو ایک کار ورکشاپ میں کام کرنے والے 12 سالہ لڑکے راکب حوالدار کو قتل کر دیا تھا۔

راکب کے جسم میں ایک ہائی پریشر پمپ کے ذریعے ہوا داخل کی گئی جس کی وجہ سے اس کے اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچا اور وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ اس پر یہ تشدد اُس ورکشاپ سے کام چھوڑ کر ایک اور قریبی ورکشاپ میں کام شروع کرنے پر کیا گیا۔ عدالت نے اسی مقدمے میں ایک اور ملزم کو بری کر دیا جس پر کمرہ عدالت میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔