1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

12 ایرانیوں کی لاشیں شامی جہادیوں کے قبضے میں

شامی حکومت کے خلاف برسرپیکار باغیوں نے ان 12 ایرانی انقلابی گارڈز کی لاشیں اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں، جنہیں گزشتہ ہفتے ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ بات ایرانی نیوز ایجنسی ISNA نے ایک ایرانی ملٹری اہلکار کے حوالے سے بتائی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ’ریوولوشنری گارڈز‘ کے 13 ملٹری مشیر گزشتہ ہفتے خان تمان میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقت میدان جنگ بنے شہر حلب کے جنوب مغرب میں واقع اس علاقے میں ہونے والی لڑائی میں 21 دیگر انقلابی گارڈز زخمی بھی ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرکاری اعداد وشمار کی رو سے ایرانی فورسز کا اتنے کم دورانیے میں یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ ہلاک ہونے والے تمام اہلکاروں کا تعلق ایران کے شمالی صوبہ مازنداران سے تھا۔ اس علاقے سے انقلابی گارڈز کے ایک ترجمان حسین علی رضائی کے مطابق، ’’تکفیریوں نے مازنداران کے 12 شہیدوں کی لاشیں رکھی ہوئی ہیں۔‘‘ رضائی کا مزید کہنا تھا، ’’ اس علاقے میں ابھی تک جنگ جاری ہے اور یہ سلسلہ ان تمام علاقوں کی آزادی تک جاری رہے گا۔‘‘ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مازنداران سے تعلق رکھنے والے ایرانی فورسز کے بقیہ تمام ارکان اور زخمی اب وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔

’ریوولوشنری گارڈز‘ کے 13 ملٹری مشیر گزشتہ ہفتے خان تمان میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے

’ریوولوشنری گارڈز‘ کے 13 ملٹری مشیر گزشتہ ہفتے خان تمان میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہو گئے تھے

شامی حکومت کے حامی دستوں نے گزشتہ برس دسمبر میں باغیوں کو خان تمان کے علاقے سے باہر نکال دیا تھا تاہم القاعدہ سے منسلک جہادی تنظیم النصرہ فرنٹ اور اس کے حلیفوں نے جمعے کے روز اس علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا تھا اور اس دوران اطراف کی جانب سے درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی رکن پارلیمان اسماعیل کوثری نے آج منگل کے روز ملکی نیوز سروس کو بتایا کہ ایرانی فورسز کے پانچ یا چھ ارکان باغیوں کے ہاتھوں پکڑے بھی گئے۔ تاہم اس بات کی تصدیق کسی سینیئر فوجی یا سیاسی ذریعے نے تصدیق نہیں کی۔

ایرانی نیوز ایجنسی فارس نے چار دیگر ایرانیوں کی ہلاکت کی بھی خبر دی ہے جن میں ایک جنرل شفیع شفائی بھی شامل ہیں۔ یہ کمانڈر جمعے کے روز خان تمان میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شام کا سب سے بڑا حلیف ملک ایران شامی جنگ میں معاشی اور فوجی حوالے سے شریک ہے۔ ایران شامی صدر بشار الاسد کی حکومت بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔