1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

11 ستمبر 2001 کی یاد میں

پانچ سال پہلے آج ہی کے دن امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے وہ واقعات ہوئے تھے جن کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع کی گئی۔ آج امریکہ اور اُس کے اتحادی ملکوں میں 11/9 میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی یاد منائی جا رہی ہے۔ جبکہ مشرقِ وسطیٰ سمیت کئی ملکوں میں امریکی خارجہ پالسی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے منفی اثرات پر گہری تنقید کی جا رہی ہے۔

11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملے کا منظر

11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملے کا منظر

امریکی شہروں نیویارک، واشنگٹن اور Pennsylvania میں آج اُن مقامات پر یادگاری تقریبات ہو رہی ہیںجہاں پانچ سال پہلے چار مسافر بردار طیاروں کو اغوا کرکے حملے کئے گئے تھے۔ اُن حملوں میں ہلاک ہونے والے 2,749 افراد کے اہلِ خانہ آج صبح سے ہی اُس جگہ پر جمع ہو رہے ہیں جہاں اب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ فریڈم ٹاور کے نام سے دنیا کی سب سے اُونچی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ کل اتوار کے روز اِن یادگاری تقریبات کا افتتاح کرتے ہوئے صدر جورج ڈبلیو بُش نے کہا : میں نے عہد کیا ہے کہ میں اُس دن حاصل ہونے والے سبق کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ ہمارا دشمن ابھی بھی آزاد ہے اور وہ ہمیں اُسی قسم کا نقصان دوبارہ پہنچانا چاہتا ہے۔

اِن تقریبات کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے القاعدہ کے نائب ایمن الزواہری نے خبردار کیا کہ اُن کا اگلا ہدف خلیجی ممالک اور اسرائیل ہوں گے۔ جہاں امریکہ کے اتحادی ممالک نے صدر بُش کی پالیسیوں کی حمایت دُہرائی وہاں بعض دیگر نے اُن پر خیر سگالی کے عالمی جزبات کی آڑ میں عراق پر حملے کا الزام لگایا۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری کئے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اب بھی تمام ملکوں اور لوگوں کے لئے خطرہ ہے اور اِس خطرے کے خاتمے کے لئے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز ہی کافی نہیں ہیں۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم John Horward نے اعتدال پسند مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی مذید کھل کر مخالفت کریں۔

چین کے زرائع ابلاغ میں اِس کے برعکس دہشت گردی کے خلاف امریکی اقدامت پر تنقید کی گئی۔ معروف اخبار People's Daily میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ 11 ستمبر نے امریکہ کو بدل کر رکھ دیا ہے تاہم پوری دنیا کو جس چیز نے بدلا ہے وہ امریکہ کا غلط ردِ عمل ہے خاص طور پر جنگِ عراق۔ دنیا بھر میں بیشتر اخبارات نے کچھ اِسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً فرانس کے بائیں بازو کے اخبار Liberation کے مطابق بُش انتظامیہ نے 11 ستمبر کے بعد حاصل ہونے والی عالمی ہمدردی کو تباہ کر دیا ہے۔ اور اُس اعتبار سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صدر بُش کی قیادت تباہ کُن ثابت ہوئی ہے۔ عرب ملکوں میں اکثر اخبارات نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اور عراق پر حملے کی وجہ سے مغربی دنیا اور اسلامی ملکوں کے درمیان تہذیبوں کے تصادم کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اُردن کے ایک غےرجانبدار روزنامے الغاد کے مدیرِ اعلیٰ ایمن صفادی کے مطابق بُش انتظامیہ نے 11 ستمبر کے جرم سے نمٹنے کے لئے انتقامی ذہنیت کا استعمال کیا جس نے پوری دنیا کو ایک میدانِ جنگ میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ مصر کے نامور روزنامے الاخبار کے پہلے صفحے پر لکھا گیا ہے کہ عراق، فلسطین اور لبنان میں ہزاروں انسان ریاستی دہشت گردی یا منظم دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں اور یہ سب کچھ طاقتور ملکوں کی حمایت سے آزادی اور جمہوریت کے نعروں تلے ہو رہا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات