1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

11 ستمبر کے موقع پر صدر بُش کا قوم سے خطاب

امریکہ میں 11 ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ تقریبات کے موقع پر امریکی صدر جورج بُش نے ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ جنگِ عراق کے معاملے پر حکومت کے ساتھ اپنے اختلافات کو علیحدہ رکھتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کے لئے متحد ہو جائیں۔

گراﺅنڈ زیرو جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتیں ہوا کرتی تھیں

گراﺅنڈ زیرو جہاں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتیں ہوا کرتی تھیں

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش نے نیو یارک میں 11 ستمبر کے حملوں کی پانچویں برسی کے موقع پر قوم سے اپنے خطاب میں اُسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے کا عہد بھی کیا ۔ پورے دن اُن تقریباً 3,000 افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری رہا جو 11 ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ گراو¿نڈ زیرو کے مقام پر ٹھیک اُسی وقت ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جب پانچ سال پہلے القاعدہ کے ارکان نے مسافر بردار طیاروں کو اغوا کرکے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارتوں پر حملہ کیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور دوستوں پر مشتمل سینکڑوں لوگوں نے اُس تقریب میں حصہ لیا۔

تاہم جہاں پانچ سال پہلے پوری دنیا نے متحد ہوکر اُن حملوں کی شدید مذمت کی تھی وہاں پیر کے روز کی تقریبات پر عدم اعتماد کے سائے لہراتے رہے۔ اِس عدم اعتماد کی وجہ نہ صرف جنگِ عراق کا منظر اور پس منظر ہے بلکہ اِس سال امریکی پارلیمانی انتخابات کے لئے جاری سیاسی محازآرائی بھی ہے۔ القاعدہ کی جانب سے مسلسل خطرے کی فضا کے باعث کل امریکہ میں یونائٹڈ ائرلائنز کی ایک پرواز کا رُخ بدل دیا گیا اور دو ہوائی اڈوں کو مشتبہ سازوسامان کے ملنے کے بعد وقتی طور پر بند کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں، سابق امریکی صدر بِل کلنٹن نے اِس بات کا اعتراف کیا کہ اُن کی حکومت کئی ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کے باوجود 11 ستمبر کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی۔ جبکہ صدر بُش نے اپنی تقریر میں امریکی عوام سے دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ جنگ نہیں چاہی تھی اور ہر امریکی چاہتا ہے کہ یہ ختم ہو جائے۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں لیکن یہ جنگ صرف کسی ایک فریق کی کامیابی پر ہی ختم ہو سکتی ہے۔ صدر بُش نے کہا کہ وہ ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو اِس صدی کے حالات اور دنیا کے کڑوڑوں عوام کی قسمت کا تعین کرے گی۔

متعدد ملکوں کے زرائعِ ابلاغ میں امریکی انتظامیہ کی بعد از 11 ستمبر کی پالیسیوں پر جس قدر تنقید کی جا رہی ہے اُس حوالے سے صدر بُش نے اپنی تقریر میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تہذیبوں کے درمیان تصادم سے تعبیر کیا جا رہا ہے لیکن اُن کی رائے میں یہ جنگ دراصل تہذیبوں کے لئے ہی ہے۔ اپنی اِسی تقریر میں صدر بُش نے جنگِ عراق کے خلاف بڑھتے ہوئے داخلی غم و غصے کو کم کرنے کے لئے اپنی عراق پالسی کو دہشت گردی کے پس منظر میں درست ثابت کرنے کی کوشش بھی کی۔ جس پر اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے اُن پر 11 ستمبر کے ہلاک شدگان کی یادگاری تقریبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر Edward Kennedy نے اِسی بات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر بُش کو تعزیت کے اِس دن کو اپنی سیاسی مہم کے لئے استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔ خاص طور پر جب کہ وہ یہ اعتراف پہلے ہی کر چکے ہیں کہ جنگِ عراق شروع کرنے کا 11 ستمبر کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

صدر بُش کے مشیروں کا بعد ازاں یہ اصرار تھا کہ اُن کی تقریر قطعی غےر سیاسی تھی۔ تاہم اِس سال نومبر میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں اپنی Republican پارٹی کی کامیابی کے لئے صدر بُش گزشتہ کئی ہفتوں سے جارحانہ انداز میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں اور اُن کی مہم کا ہدف جنگِ عراق کے خلاف امریکی عوام کے غصے کو کم کرنا ہے۔