1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

11 ستمبر، امريکہ کی قوت مزاحمت اور خود اعتمادی برقرار

امريکہ نے گيارہ ستمبر سن2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے 10 سال بعد ان ميں ہلاک ہونے والے اپنے تقريباً 3000 ہزار شہريوں کا سوگ منايا ہے۔ گراؤنڈ زيرو پر ہونے والی تقريب باوقار اور متاثرکن تھی۔

11 ستمبر کی ياد ميں تقريب، نائب صدر جو بائيڈن، وزير دفاع ليون پينيٹا اور جوائنٹ چيفس آف اسٹاف مائيک مولن

11 ستمبر کی ياد ميں تقريب، نائب صدر جو بائيڈن، وزير دفاع ليون پينيٹا اور جوائنٹ چيفس آف اسٹاف مائيک مولن

 امريکہ نے ايک جذباتی تقريب ميں 11 ستمبر سن 2001 کے دہشت گردانہ حملوں ميں ہلاک ہونے والوں کی ياد منائی ہے۔ اس تاريخ نے مغربی دنيا کو بدل کر رکھ ديا ہے اور سپر پاور امريکہ کی اجتماعی يادداشت پر گہرے زخم لگائے ہيں۔

دہشت گردوں نے نہ صرف تقريباً 3000 امريکی شہريوں کو موت کی نيند سلا ديا، بلکہ اُنہوں نے لاتعداد گھرانوں کوغمناک  کر ديا اور ايک پوری نسل کی نفسيات کو بدل ديا، جو اس سے پہلے تک اپنے ملک اور اپنی سر زمين کوحملوں کی زد سے بالکل محفوظ سمجھتی تھی۔

ليکن دہشت گردوں نے يہ حملے ايک ايسی قوم پر کيے تھے، جو بجا طور پر مزاحمت کی صلاحيت رکھتی ہے  اور جس کی خود اعتمادی کو ان حملوں نے مشکل ہی سے کوئی نقصان پہنچايا ہے۔ 11 ستمبر کی دہشت گردی کے 10 سال پورے ہونے کی اس تقريب ميں جو تقارير کی گئيں، اُن سے بھی واضح طور پر يہی تاثر ملتا ہے۔ امريکہ تبديل تو ہو گيا ہے ليکن جيسا کہ صدر اوباما نے کہا، اُس نے اپنا کردار تبديل نہيں ہونے ديا ہے۔

تقريب ميں آنے والے، ہلاک شدگان کے نام ديکھ رہے ہيں

تقريب ميں آنے والے، ہلاک شدگان کے نام ديکھ رہے ہيں

امريکی قوم نے 11 ستمبر کے متاثرين کے سامنے سر خم کيا ہے۔ اُس نے اس دوران عجزوانکساری کا مظاہرہ کيا ہے اور يہ دکھايا ہے کہ اُس کی قوت مزاحمت ٹوٹی نہيں ہے۔ اس کے اظہار کے ليے سابق صدر بش علامتی طور پر صدر اوباما کے پہلو ميں کھڑے تھے۔

اوباما اور بش گراؤنڈ زيرو پر

اوباما اور بش گراؤنڈ زيرو پر

بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ چھيڑی تھی، جس نے بعد کے برسوں ميں عراق اور افغانستان ميں ہزاروں افراد کو موت کی نيند سلا ديا اوراب امريکہ اپنے اقتصادی امکانات کی آخری حدود تک پہنچ چکا ہے۔

يہ نہيں کہا جا سکتا کہ اس جنگ سے دنيا زيادہ محفوظ ہو گئی ہے اور ايک ايسا نيا عالمی نظام وجود ميں آيا ہے، جس ميں مختلف مذاہب کے ماننے والے معاشرے ايک دوسرے کے نزديک آ گئے ہيں۔ 11 ستمبر کے گہرے زخموں نے بعض مذاہب کے ماننے والوں اور بعض معاشروں سے تعلق رکھنے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے کے نئے تصورات کو جنم ديا ہے۔

اسلام کی آڑ لينے والے دہشت گرد اپنے مقاصد ميں ناکام ہو گئے ہيں۔ القاعدہ کی دہشت گردی دنيا کو تہہ و بالا نہيں کر سکی ہے ليکن اُس کا مقابلہ کرنے والوں نے بھی اس جنگ ميں گناہ کيے ہيں: گوانتانامو اور ابو غريب اس کی صرف دو مثاليں ہيں۔ بعض مشتبہ افراد کو انسانيت سوز اذيتيں دی گئيں۔

اس دوران گراؤنڈ زيرو پر ايک پر وقار ياد گار تعمير ہو چکی ہے۔ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں اور اُن کے لواحقين سے ہمدردی ابدی حيثيت حاصل کر چکی ہے۔

امريکہ ميدان ميں ڈٹا ہوا ہے، ليکن وہ اب کبھی بھی 11 ستمبر سن2001 سے قبل والا امريکہ نہيں ہو گا۔

تبصرہ: ڈانئيل شيشکيوٹس، دوئچے ويلے / شہاب احمد صديقی

ادارت: امجد علی      

 

DW.COM