1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

یہ ’کے کلچر‘ کیوں پھیل رہا ہے؟

جنوبی کوریا کا پاپ میوزک اور ڈرامے پورے ایشیا بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی شوق سے دیکھے جا رہے ہیں، مگر اب جنوبی کوریا کی تین فلموں نے کن کے فلمی میلے میں بھی دھوم مچا رکھی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی شہر کن میں منعقدہ اس بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں کوریائی فلموں کو ملنے والی مقبولیت جنوبی کوریا میں سنیما کی صنعت میں ترقی کی عکاسی کر رہی ہے۔

ان تین کوریائی فلموں میں سب سے آگے ہدایت کار پارک چن وُوک کی ڈرامہ فلم ’دا ہنڈمیڈین‘ ہے، جس کی کہانی برطانوی مصنفہ سارہ واٹرز کے جنس اور جرائم کے موضوع پر لکھے گئے ناول فنگر سمتھ سے ماخوذ ہے۔ ہفتے کے روز یہ فلم ان دیگر 21 فلموں میں شامل ہے، جن کا اس فلمی میلے کے سب سے اعلیٰ ایوارڈ ’’پالم ڈے اور‘‘ کے لیے پریمیئر ہو رہا ہے۔

Festival de Cannes - Film Agassi

کوریائی فلموں میں مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

کن فلم فیسٹیول میں یہ پارک کی تیسری فلم ہے، جو اس مقابلے کا حصہ بنی ہے، اس سے جنوبی کوریائی ہدایت کار کی زبردست کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ان کی سب سے معروف فلم ’اولڈ بوائے‘ تھی، جسے سن 2004ء میں گراں پری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی فلم ’تھرسٹ‘ یا پیاس سن 2009ء میں جیوری ایوارڈ جیت چکی ہے۔ یہ فلم ویمپائر کی عشقیہ داستان ہے۔

اپنی نئی فلم کی اسکریننگ کے موقع پر پارک کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر نہایت خوش گوار حیرت کا شکار ہیں کہ ان کی فلم کو اس مقابلے کے لیے چنا گیا ہے۔ ’’مجھے یقین نہیں کہ یہ کن کے مقابلے کی اہل ہے یا نہیں۔ یہ بہت سادہ سی فلم ہے، جس میں تمام کردار آخر میں ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں اور کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایسے فلمی میلوں میں عموماﹰ وہ فلمیں پسند کی جاتی ہیں، جن میں اختتام دل پسند نہ ہو۔‘‘

پارک کی اس فلم کے علاوہ دیگر جنوبی کوریائی ہدایت کار نا ہونگ جن کی فلم دا وایلِنگ اور یئون سنگ ہو کی فلم ٹرین کو بوسن بھی کن فلم فیسٹیول کے اسکریننگ پروگرام میں شامل کی گئی ہیں۔