1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہ پشاور ہے: چوہے مارو، پیسے بناؤ

شمال مغربی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں چوہوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور مسلسل عوامی شکایات کے بعد شہر میں چوہوں کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔

اس مہم کو تیز اور کارآمد بنانے کے لیے ضلعی حکومت نے چوہوں کے خاتمے کے لیے عوام کو ان جانوروں کی تلفی پر فی چوہا 25 روپے انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے پشاور کے ضلعی ناظم محمد عاصم خان نے بتایا کہ یہ فیصلہ بڑے بڑے چوہوں کی بھرمار اور چوہوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ مل کر شہر کو ان سے پاک کیا جا سکے۔

چوہے مارنے پر انعامی رقم کے بارے میں پشاور کے ناظم کا کہنا تھا، ’’شفاف طریقے سے چوہوں کو مارنے والے افراد کو نقد انعام دیا جائے گا۔ تلف کیے گئے چوہوں کو جمع کرنے اور انہیں محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے ’کولیکشن پوائنٹ‘ بھی بنائے جا رہے ہیں۔‘‘

ضلعی انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد گزشتہ روز پشاور کے کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے بھی چوہوں کی خاتمے کےلیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی اعلان کردہ انعامی رقم کے برعکس کنٹونمنٹ بورڈ نے چوہے مارنے پر فی جانور 300 روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔

اس بارے میں پشاور کے ناظم نے کہا، ’’اگرچہ کنٹونمنٹ بورڈ کا مقررہ کردہ فی چوہا ریٹ ہمارے 25 روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے تاہم ہمارے لیے یہی رقم مناسب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پورے ملک میں ایسی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ عوام کو ان جانوروں کی وجہ سے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔‘‘

اس بارے میں پشاور میں صدر کے علاقے کے ایک رہائشی، بیس سالہ علی اقدس نے بتایا کہ اس نے بدھ اکتیس مارچ کے روز اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر دو چوہے مارے لیکن شہری انتظامیہ کے ساتھ رابطہ نہ ہونے کے باعث ان تلف کردہ جانوروں کو خود ہی ایک جگہ پر زمین میں دبا دیا۔ علی اقدس نے کہا، ’’ہم نے یہ چوہے انعامی رقم کے لیے مارے تھے۔ لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوا کہ انعام ملے یا نہ ملے، ہم کم از کم ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔‘‘

پشاور ہی کے ایک اور شہری نصیر احمد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چوہوں کے خلاف کافی عرصے سے سرگرم ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے گزشتہ آٹھ برسوں میں ایک لاکھ سے زائد چوہے تلف کیے۔ ان کو اس وجہ سے ’رَیٹ کِلر یا رَیٹ کِلنگ اسپیشلسٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

نصیر احمد کہتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے چوہے مارنے پر انعام کا اعلان ایک اچھا قدم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشاور اور اس کے مضافات میں پائے جانے والے زیادہ تر چوہوں کی لمبائی 22 سے 35 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے، جو مختلف گلیوں، مارکیٹوں، دکانوں اور گھروں میں پل کر بڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

’’میرے خیال میں اس مہم کی وجہ سے ہم کافی حد تک چوہوں سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اگرچہ ضلعی انتظامیہ کا مقررکردہ ریٹ کافی کم ہے تاہم پھر بھی اگر کوئی شہری اس کام کو اپنا مشن بنا لے، تو یہ اس کے لیے روزگار کا اچھا خاصا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ضلعی ناظم محمد عاصم خان کے بقول انہوں نے ڈبلیو ایس ایس پی (Water & Sanitation Service Peshawar) کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ٹیمیں دس گنا کر دیں تاکہ اس مہم کو بہتر طور پر جاری رکھا جاسکے۔ ’’پشاور کے شہری ہمارا ساتھ دے رہے ہیں، یہ کامیابی کی طرف ایک قدم ہے۔‘‘

چوہے کے کاٹنے کی وجہ سے کچھ روز پہلے پشاور کے علاقے حسن گڑھی سے تعلق رکھنے والی ایک بچی ہلاک ہو گئی تھی، جس کے بعد چوہوں کے خاتمے کے لیے شہری مطالبات زور پکڑ گئے تھے۔