1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہ نئی ایپ آپ کو رُلا دے گی

حلب شام کا اقتصادی مرکز ہوا کرتا تھا۔ تاہم چار سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث اب اس شہر میں تباہ شدہ عمارتیں اور ملبے کے ڈھیر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اس تباہی کو قریب سے دیکھنے کے لیے اب ایک نئی ایپ بھی متعارف کروائی گئی ہے۔

’ویلکم ٹو ایلیپو‘ یا ’حلب میں خوش آمدید‘ نامی یہ ایپلیکیشن لاس اینجلس کی ’RYOT‘ نامی ایک کمپنی کی اختراع ہے۔ یہ بھی ان دیگر درجنوں ایپس کی طرح ہے، جن کے ذریعے آپ اپنے موبائل فون پر ورچوئل ریئیلٹی ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ اس ایپ کی تیاری کے دوران چھ مختلف ’گو پروز‘ کیمروں کی مدد سے اتاری گئی تصاویر کو جوڑ کر پورے شہر کی عکاسی کی گئی ہے اور مناظر کو ’پینوراما‘ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ اس ایپ کی بدولت آپ جنگ سے تباہ حال اس شہر کو ہر زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔ ’گو پروز‘ وہ کیمرے ہوتے ہیں، جنہیں لوگ اکثر اپنی گاڑیوں میں نصب کرتے ہیں یا موٹر سائیکل سوار اپنے ہیلمٹ پر لگاتے ہیں۔

یہ تین منٹ کی ویڈیو ہے اور پس پردہ ایک شامی خاتون کی آواز ہے، جو حلب کی تباہ کاریاں بیان کر رہی ہے۔ ورچوئل ریئیلٹی ہیڈ سیٹ پہن کر یا اپنے موبائل فون پر یہ ویڈیو دیکھنے والے اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر ہر سمت میں دیکھ سکتے ہیں۔ جیسے ہی وہ اپنا موبائل فون اوپر کی جانب کریں گے تو اوپر کا منظر دکھائی دے گا اسی طرح پیچھے اور دائیں بائیں کے مناظر کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ایپ کے شریک بانی برائن موزر کہتے ہیں، ’’میری ہمیشہ سے کوشش تھی کہ میں یہ دکھاؤں کہ کتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ورچوئل ریئیلیٹی کی مدد سے آپ کو یہ جاننے میں آسانی ہو گی کہ کتنی زیادہ تباہی ہوئی ہے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس طرح دور بیٹھ کر بھی لوگ مسلح تنازعات میں گھری ہوئی جگہوں کا دورہ کرتے ہوئے وہاں کے اصل حالات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

اس کمپنی کے صارفین اس ایپ کی ذریعے اور بھی مختلف تجربات حاصل کر سکتے ہیں مثال کے طور پر نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد کے حالات یا امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر لگائی جانے والی باڑ اور اس کے علاوہ فرانس میں کیلے کے مہاجر کیمپ کے شب و روز بھی ایک ورچوئیل ویڈیو کی مدد سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ اضافہ ابھی حال ہی میں کیا گیا ہے۔

’RYOT‘ کے موزر اور ڈیوڈ ڈریگ کا خیال ہے کہ اس طرح کی ورچوئل ویڈیوز ان بحرانوں کے بارے میں بہتر آگاہی کا سبب بنیں گی اور اس طرح مقامی سطح پر کام کرنے والے امدادی اداروں کو ملنے والے عطیات میں اضافہ ہو گا۔ ڈریگ کے بقول نیپال میں آنے والے زلزلے کی ورچوئل ویڈیوجب مختلف فیسٹیولز میں دکھائی گئی تو عطیات کے طور پر ایک لاکھ ڈالر جمع ہوئے:’’بہت سے لوگوں نے اپنے ہیڈ سیٹ اتار دیے تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘‘۔