1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہ عید ہے یا سوگِ محرم؟

پاکستان میں اس سال رمضان المبارک کا اختتام اور عید کے تہوار کی آمد انتہائی افسوسناک انداز میں ہو رہی ہے۔ مقدس مہینہ بھی دہشت گردوں کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ:

ہر معاشرے اور ہر مذہب میں چند مخصوص دنوں اور اوقات کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کا انتظار سارا سال کیا جاتا ہے اور ان کی آمد کی تیاریاں ہر کوئی اپنی حیثیت اور دلچسپی کے مطابق کرتا ہے۔ ماہ رمضان کو تمام اسلامی دنیا میں غیر معمولی اہمیت کا حامل مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ماہ میں تمام مسلمانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت سے بھرپور طریقے سے مستفید ہو سکیں۔ تاہم انہی مسلمانوں کے درمیان ایسے انسان موجود ہیں جو نہ تو خود خوشیاں اور رحمتیں سمیٹنا چاہتے ہیں، نہ ہی دوسروں کو ہنستا مسکراتا اور خوشیاں مناتا دیکھ سکتے ہیں۔

اس سال کے  جمعۃ الوداع کا آغاز ہی  کوئٹہ کے آئی جی آفس کے سامنے شہدا چوک پر بارودی مودا سے لیس گاڑی کے دھماکے سے ہوا جس کے نتیجے میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ دہشت گردانہ واقعات محض انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہیں بنے بلکہ ہلاک ہونے والوں کے بارہ خاندانوں اور ان کے عزیز و اقارب اور دوست و احباب میں جو سوگ پھیلا ہے اُس کا جوابدہ کون ہے؟ پوری قوم اس پر ابھی غور کر ہی رہی تھی کہ چند گھنٹوں کے اندر قبائلی علاقے پارا چنار کے طوری بازار سے یکے با دیگرے دو بم دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں اور پتا چلا کہ دہشت گردی کے ان واقعات میں قریب دو درجن ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افطار کے بندوبست اور عید کی خریداری میں مصروف تھے۔ 

یہ کیسا جنون ہے جو انسانوں کو دوسرے انسانوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم کر دینے اور ان کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دینے پر اُکساتا ہے؟

Mustafa Kishwar Kommentarbild App

شعبہ اردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ

آخر مغربی معاشروں میں بھی تو ہر طرح کے انسان بستے ہیں اور ان کے مختلف سیاسی، سماجی، نفسیاتی مسائل بھی ہوتے ہیں لیکن مغربی ممالک میں تو یہ دیکھنے کو نہیں ملتا کہ کرسمس یا ایسٹر جیسے تہوار کے موقع پر خوشیاں منانے اور تہوار کی تیاریاں کرنے والے شہریوں کو دہشت گردانہ حملوں کا شکار بنایا جائے۔ انہیں موت کے گھاٹ اُتار کر، ان کے لواحقین کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیے تاریک کر دیا جائے۔ ان ملکوں میں مذہبی اور سماجی ہر طرح کے تہواروں کے موقع پر عوام میں جس طرح کا جوش و خروش پایا جاتا ہے اُس کا تعلق کسی خاص عقیدے سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے۔

امن، رواداری، برداشت، صلہ رحمی، ضبط، نیک نیتی اور سب سے بڑھ کر خوشیاں بانٹنے اور حسن سلوک کی مثال پیش کرنے سے جس اسلامی مہینے کو منسوب کیا جاتا ہے وہ ’رمضان‘ کا مہینہ کہلاتا ہے۔ اس مہینے میں ایسی سفاکانہ کارروائیاں کرنے والوں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ لیکن سزا تو وہاں دی جاتی ہے جہاں احتساب کا تصور پایا جائے۔ جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں اور اس کی نگرانی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کرتے ہوں۔ پاکستان میں ہونے والے ہر دہشت گردانہ حملے کے بعد ابتدائی طور پر یہی سُننے کو ملتا ہے کہ یہ نامعلوم افراد کی کارروائی تھی۔ جب زرا چھان بین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کسی نا کسی دہشت گرد تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس کے بعد کہاں کی سزا اور کہاں کی جزاء۔ متاثرین کے گھر ویران ہو جاتے ہیں اور ان کی آئندہ نسل تک ہمیشہ کے لیے غموں کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے۔ باقی کاروبار زندگی پھر معمول پر آجاتا ہے۔ نہ حکومت، نہ فوج نہ ہی مذہبی ادارے یہ ذمہ داری لیتے ہیں کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

المیہ تو یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے پورا سال ہی جیسے موزوں وقت رہتا ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا بازار گرم رکھنے والے نہ تو محرم کا احترام کرتے ہیں نہ ہی رمضان اور عید جیسے مواقع کا۔ ان کا جنون و ہیجان صرف اور صرف خون اور آہ و بکا سے قرار پاتا ہے۔