1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہ تماشہ کیوں؟

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا ) کو ایک مرتبہ پھر وزرارت اطلاعات سے کیبنٹ ڈویژن کے زیر کنٹرول دے دیا گیاہے۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا )کا قیام سن 2002 میں ایک خود مختار ادارے کے طور پر تشکیل میں آیا تھا ۔ قیام کے بعد اس وقت کے سیکٹری انفارمیشن سید انور محمود نے اس کو اپنے کنٹرول میں رکھا ۔ جب ان کا وزرارت صحت میں تبادلہ ہوا تو پیمرا کو کیبنٹ ڈویژن کے ماتحت کر دیا گیا۔ لیکن جب گزشتہ برس ایمرجنسی کے نفاذ سے پہلے سید انور محمود کا تبادلہ دوبارہ وزارت اطلاعات میں ہوا تو انہوں نے پیمرا کو ایک مرتبہ پھر اپنے زیر کنٹرول کر لیا ۔ اور آج پیمرا ایک مرتبہ پھرکیبنٹ ڈویژن کے زیر سایہ دے دیا گیا ہے۔ اس بات فیصلہ نگران وزیر اعظم میاں محمد سومرو نے کیا ۔ آخر پیمرا کے ساتھ یہ تماشہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اور اس کا قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ اس بارے میں ڈوئچے ویلے نے خصوصی بات کی سینئر جرنلسٹ اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضال بٹ سے ۔

Audios and videos on the topic