1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یہ بدترین اقدامات ہیں، کاتالان لیڈر پوج ڈیمونٹ

ہسپانوی وزیراعظم کے کاتالونیا کے بارے میں حکومتی اقدامات پر کاتالونیا کے آزادی پسند لیڈر نے شدید تنقید کی ہے۔ میڈرڈ حکومت نے پہلی اکتوبر کے متنازعہ ریفرنڈم کے تناظر میں اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

ہسپانوی علاقے کاتالونیا کے علیحدگی پسند رہنما کارلیس پوج ڈیمونٹ نے بارسلونا شہر میں ایک انتہائی بڑے مجمع میں وزیراعظم ماریانو راخوئے کے اقدامات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر فرانسسکو فرانکو کے بعد کاتالونیا کے عوام اور اُس کے اداروں پر کیا گیا یہ سب سے بدترین حملہ ہے۔ انہوں نے اپنی علاقائی پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ اپنے ہنگامی اجلاس میں میڈرڈ حکومت کے اقدامات پر بحث کرے اور کوئی مناسب فیصلہ تجویر بھی کرے۔

اسپین اور کاتالونیا کے مابین کشیدگی بڑھتی ہوئی

یورپی یونین سمٹ: بریگزٹ اور کاتالونیا کو اہمیت حاصل رہے گی

کاتلان لیڈر کا انتباہ ہسپانوی حکومت نے مسترد کر دیا

کاتالونیا بحران کے سائے میں ہسپانوی قومی دن

پولیس کے مطابق بارسلونا میں ساڑھے چار لاکھ افراد نے آزادی کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ہزاروں ہاتھوں میں زرد، نیلے اور سرخ رنگوں والے کاتالونیا کے جھنڈے فضا میں لہرا رہے تھے۔ یہ لوگ مسلسل آزادی، آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔

بارسلونا میں کارلیس پوج ڈیمونٹ نے انتہائی نپے تلے اور محتاط الفاظ میں ہزاروں افراد کے سامنے تقریر کی اور اس میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے لفظ ’آزادی‘ کا استعمال نہیں کیا۔ دوسری جانب ہسپانوی حکومت اور یورپ بھر میں حکومتیں اور عوام اس کے منتظر تھے کہ پوج ڈیمونٹ وزیراعظم راخوئے کے اقدامات کے ردعمل میں آزادی کا اعلان کرنے کی جرات کریں گے۔ یورپی حکومتوں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کر رکھا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایو لیدریاں کے مطابق کاتالونیا کا بحران یورپ کو ایک خطرناک اور پریشان کن صورت حال سے دوچار کر سکتا ہے۔

Spanien Protesten für die Unabhängigkeit nach Ankündigung des Artikels 155 (picture-alliance/AP Photo/M. Fernandez)

اکیس اکتوبر کے مظاہرے میں شریک کارلیس پوج ڈیمونٹ اور دوسرے رہنما

ہفتہ اکیس اکتوبر کو ہسپانوی وزیراعظم نے ملکی سینیٹ سے اجازت طلب کی تھی کہ کاتالونیا میں پہلی اکتوبر کے آزادی کے متنازعہ ریفرنڈم کے بعد کی صورت حال کے تناظر میں انتظامی اختیارات اُن کے وزراء کو منتقل کرنے کے علاوہ پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔ وزیراعظم نے ملکی دستور کی خصوصی اختیارات کی شق 155 کو فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے ان غیرمعمولی اقدامات کو شروع کرنے کا الزام کاتالونیا کے علیحدگی پسندوں پر عائد کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:02

کاتالونیا کا بحران، اب کیا ہو گا؟

راخوئے کے مطابق میڈرڈ حکومت کا فیصلہ بارسلونا حکومت کے یک طرفہ اقدامات کے تناظر میں ہے اور سینیٹ کی منظوری کے بعد کاتالونیا کی علاقائی حکومت کے تمام انتظامی اختیارات میڈرڈ حکومت کو منتقل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کاتالونیا کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے، کارلیس پوج ڈیمونٹ کی حکومت برخاست کرنے اور نئے انتخابات اگلے چھ ماہ میں کرانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔ کاتالونیا کی علاقائی پارلیمنٹ کے انتخابات اگلے برس وسط جون میں متوقع ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic