1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہ ایشائی ممالک کن باتوں سے غصے میں آتے ہیں؟

بھارت ہو یا شمالی کوریا، چین ہو یا جاپان ان ممالک کو ایئرپورٹ پر سفارت کاروں کی تلاشی، مجسموں، جنگی جہازوں کی پروازوں اور یہاں تک کہ ڈور میٹ سے بھی غصہ دلایا جا سکتا ہے۔ جانیے ایشیا کے ان ممالک کی دکھتی رگیں کونسی ہے؟

بھارتیوں کو دنیا میں ’’جذباتی لوگوں‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کچھ باتوں پر بھارتی اتنی جلدی ناراض ہو جاتے ہیں کہ باقی دنیا بھی حیران ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں نئی دہلی میں ایک ایسا جرثومہ دریافت کیا گیا، جس کے خلاف اینٹی بائیوٹک دوا مؤثر نہیں تھی، اسے نئی دہلی کا نام دیا گیا لیکن بھارتیوں نے اس کے خلاف میڈیکل کی دنیا کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔

اسی طرح بھارتی اس وقت بھی شدید غصے میں آئے، جب ان کے سفارت کاروں کی امریکا میں تلاشی لی گئی۔ اسی طرح سن دو ہزار تیرہ میں اس بھارتی خاتون سفارت کار کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا، جو اپنی نوکرانی سے مبینہ طور پر برا سلوک کرتی تھیں۔ اس بات پر بھی تناؤ حکومتوں تک جا پہنچا۔

حالیہ چند برسوں میں بھارت یا بیرون ملک ہر اس شخص کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے، جو وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف بات کرتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ایمازون پر ایسے ڈور میٹس فروخت کے لیے پیش کیے گئے، جن پر بھارتی پرچم تھا۔ اس بات پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور بھارتی وزیر خارجہ نے ایمازون کے اہلکاروں کو ویزے نہ دینے کی دھمکی دے ڈالی۔ اس کے بعد ایمازون نے اپنی ویب سائٹ پر ایسی مصنوعات کی فروخت بند کر دی۔

ایک برس پہلے اس وقت بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جب آن لائن ایسے ڈور میٹس کی فروخت شروع ہوئی تھی، جن پر ہندوؤں کے ایک مذہبی دیوتا کی ایک تصویر تھی۔ اسی طرح ہندو گائے کو مقدس مانتے ہیں اور اس کے خلاف کوئی بھی بات کی جائے وہ اس کا برا منا جاتے ہیں۔

چین

تائیوان کی حیثیت چین کی دکھتی رگ جیسی ہے اور چند ہفتے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی رگ کو چھیڑا تھا۔ چین اپنی سیاسی پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی حساس ہے اور کسی کی بھی تنقید کو برداشت نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ چین میں اقلیتوں کے حقوق، تبت اور سنکیانگ کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے، چین اشتعال میں آ سکتا ہے۔

شمالی کوریا

ویسے تو امریکا کچھ بھی کہے شمالی کوریا اشتعال میں آ جاتا ہے اور شمالی کوریا حکومت عوام میں موجود پہلے سے ہی امریکا مخالف جذبات کو خوب استعمال کرتی ہے۔ لیکن امریکا نے حالیہ کچھ عرصے سے اسے اعصابی تکلیف دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

کوریائی جنگ کے دوران سب سے زیادہ تباہی بمبار طیاروں کی وجہ سے ہوئی تھی اور شمالی کوریا میں ایسے بمبار طیاروں کے خلاف نفرت عروج پر ہے۔ امریکا جب بھی بے چینی بڑھانا اور غصہ دلانا چاہتا ہے، تو شمالی کوریا کی سرحد کے قریب B-52 بمبار طیاروں کی پروازیں شروع کر دیتا ہے۔ شمالی کوریا ایٹمی اور میزائل تجربات کرنے کی دھمکی دے کر واشنگٹن کو غصہ دلاتا ہے اور امریکا ایسی پروازوں سے۔

جاپان

جاپان کے لیے ’’دل بہلانے والی خواتین‘‘ کے مجسمے انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے۔ جنوبی کوریا نے حال ہی میں ایسا ایک مسجمہ جاپانی سفارت خانے کے سامنے نصب کیا تھا، جس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ ان جنوبی کوریائی خواتین کے مجسمے ہیں، جنہیں جنگ کے دوران جاپانی فوجی جنسی تسکین کے لیے استعمال کرتے تھے۔ جنوبی کوریا اس طرح بین الاقوامی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ جاپان اسے بے عزت کرنے کی مہم قرار دیتا ہے۔