1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یہودیوں کا امدادی قافلہ، غزہ روانہ

اسرائیل، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کا ایک بحری قافلہ امدادی سامان کے ساتھ غزہ کی طرف سفر پر نکل پڑا ہے۔

default

اتوار کو روانہ ہونے اس سمندری قافلے میں سات امدادی کارکن اور بحری جہاز کے عملے کے تین افراد شامل ہیں۔ اس چھوٹے سے بحری جہاز پر لدی اشیاء میں بنیادی طبی امدادی سامان کے علاوہ بچوں کے لئے کتابیں اور کھلونے بھی شامل ہیں۔ اس قافلے میں شامل افراد نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی بحری دستوں نے انہیں روکا تو وہ کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کریں گے۔

اس قافلے میں شامل برطانوی یہودی رچرڈ کوپر نے بتایا کہ یہ امدادی قافلہ دراصل ایک علامتی احتجاج ہے اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے اس عمل سے وہ غزہ پٹی کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہتےہیں۔ اتوار کی دوپہر قبرص کی ایک بندرگاہ سے روانہ ہونے والا یہ بحری قافلہ 36 گھنٹے کی مسافت کے بعد غزہ پٹی کی ساحلی حدود میں داخل ہو گا۔

کوپر نےخبر رساں ادارے AFP کو بتایا: ’’یہ ایک پرامن قدم ہے، جس میں کسی بھی قسم کا کوئی تشدد شامل نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد غزہ پہنچنا ہے تاہم اس حوالے سے وہ اسرائیل فوج کے ساتھ کوئی تصادم نہیں چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کو سارے ہی یہودی تسلیم نہیں کرتے۔

رواں سال اسرائیل کی طرف سے غزہ پٹی کی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک سمندری قافلے پر اسرائیلی فوج کے کمانڈوز کی کارروائی کے نتیجے میں اس بحری قافلے میں شامل نو امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ تل ابیب حکومت نے غزہ کی ناکہ بندی اس لئے کر رکھی ہے کہ وہاں ہتھیاروں کی سمگلنگ روکی جا سکے۔

Palästinensische Kinder an der Grenze

غزہ کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 1.5 افراد متاثر ہو رہے ہیں ، جن میں کوئی آٹھ لاکھ بچے بھی شامل ہیں

غزہ کی طرف روانہ ہونے والے اس نئے بحری قافلے میں ہولو کاسٹ میں زندہ بچ جانے والے بیاسی سالہ Reuven Moskovitz بھی شامل ہیں۔ غزہ کی طرف سفر پر روانگی سے قبل خبر رساں ادارے AFP کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے موسکووٹس نے بتایا کہ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قافلے میں شامل ہوں۔ ’’میں اسے ایک مقدس فریضہ سمجھتا ہوں۔ میں غزہ میں آٹھ لاکھ بچوں اور دیگر افراد کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا ہوں۔‘‘

برطانوی جھنڈے کے ساتھ غزہ کی طرف رواں اس بحری قافلے میں شامل جہاز کے عملے کے ایک رکن Yonatan Shapira نے سیٹیلائٹ فون کے ذریعے AFP کو بتایا کہ وہ تشدد نہیں چاہتے لیکن اگراسرائیلی دستوں نے اس امدادی جہاز کو روکنا چاہا تو وہ ان سے تعاون ہر گز نہیں کریں گے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک بارہا دہرا چکے ہیں کہ ان کی حکومت کسی بھی امدادی قافلے کو غزہ کی سمندری حدود میں داخل نہیں ہونے دے گی۔ اسرائیلی حکام نے کہا کہ اگر یہ لوگ امدادی سامان غزہ پہنچانا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے سامان کی چیکنگ کروانا ہو گی۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM