1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یہودیت سے اسلام قبول کرنے والے معروف اسلامی سکالر محمد اسد

محمد اسد کی خدمات کے عوض آسٹریا حکام نے ویانا میں ایک میدان ان کے نام سے منسوب کر دیا۔ اگرچہ محمد اسد ایک اسلامی سکالر بن کر ابھرے تاہم انہون نے قیام پاکستان میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔

default

ویانا انٹرنیشنل سنٹر

آسٹریا کے دارلحکومت ویانا میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے عین سامنے واقع ایک میدان کو یہودیت سے اسلام قبول کرنے والےمعروف سکالرمحمد اسد کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد اسلام اور مغرب کے مابین مکالمت کو فروغ دینا اور دونوں اقوام کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ایک رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں باقاعدہ طور پر اس میدان کو محمد اسد کے نام سے منسوب کیا گیا۔ یوں نہ صرف آسٹریا بلکہ مغربی یورپ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ٹریفک ایریاکو کسی مسلمان شخصیت سے منسوب کیا گیا ہو۔

اس تقریب کے موقع پر اعلی سرکاری شخصیات کے ساتھ محمد اسد کے بیٹے طلال اسد اور پاکستانی سفارت کار محمد شہباز بھی شامل تھے ۔

محمد اسد کی زندگی پر طائزانہ نظر

leopold wesis جو بعد ازاں ایک معروف اسلامی سکالر محمد اسد کےنام سےجانے جاتے ہیں ، سن انیس سو میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ محمد اسد کے والد یوکرائین سے ہجرت کر کے ویانا آباد ہوئے ۔ محمد اسد نے اپنی ابتدائی زندگی ویانا میں بسر کی تاہم نوجوانی میں ویانا کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ گئے۔

جب اسد بایس سال کے تھے تو ان کے ماموں Dorian Feigenbaum نے انہیں یروشلم آنے کی دعوت دی ۔ جو اس وقت معروف نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کے شاگرد تھے۔

یروشلم میں قیام کے دوران ہی اسد نےسن انیس سو تیئس میں فرینکفرٹر زائی تنگ میں بطور رپورٹر کام شروع کیا جس کے نتیجے میں انہیں مشرق وسطی میں کئی نئی جگہوں پر جانے کا موقع ملا۔ سن انیس سو چھبیس میں اسد قاہرہ گئے جہاں ان کی ملاقات اسلام کی معروف سکالر شیخ مصطفی سے ہوئی ا ور کہا جاتا ہے کہ یہی اسد کا اسلام کے ساتھ براہ راست رابطہ بنا۔ اور بعد ازاں اسی سال اسد نے اسلام قبول کیا اور پھر شام ، عراق، کردستان، ایران اور سنٹرل اشیا کے کئی ممالک گئے اوردین اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوتے چلے گئے ۔

اس وقت برصغیر پاک و ہند میں اسد کی ملاقات علامہ اقبال سے ہوئی اور انہی کے مشورے پر اسد نے وہاں رہنے کا فیصلہ کیا اور قیام پاکستان میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے پہلے سفیر مقرر ہوئے۔ لیکن اپنی ادبی اور مذہبی زندگی کی تکمیل کے لئے انہوں نے سفیر کا عہدہ چھوڑ دیا ۔ محمد اسد کی شہرہ آفاق کتابوں میں روڈ ٹو مکہ سب سے زیادہ مقبول ہوئی۔ انہوں نے قران کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔ اور مکمل تفسیر بھی تصنیف کی۔

اپنی زندگی کے آخری دن انہوں نے پورپ میں گزارے ۔ ان کا انتقال سن انیس سو بانوے میں، جنوبی سپین کے شہر اندلس میں ہوا، اور اسد کو ملاگا کے مسلمان قبرستان میں دفن کیا گیا۔