1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

یکم جنوری سے اٹلی میں پلاسٹک کے تھیلے ممنوع

سال نو کے آغاز سے اٹلی میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب وہاں صرف کپڑے یا کاغذ سے تیار شُدہ یا پھر ایسے شاپنگ بیگ ہی استعمال ہو سکیں گے، جو بعد میں آسانی سے گل سڑ کر ختم ہو سکتے ہوں گے۔

default

اٹلی کے صارفین کا پلاسٹک کے تھیلوں کا فی کس استعمال یورپ بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ بہت سے اطالوی ایک ’لا بُسٹا‘ یا پلاسٹک بیگ کو صرف ایک بار ہی استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اٹلی میں ایک پلاسٹک بیگ زیادہ سے زیادہ بیس منٹ بعد پھینک دیا جاتا ہے جبکہ پلاسٹک بیگ کے گل سڑ کر ختم ہونے میں 500 سے لے کر ایک ہزار سال تک کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

اٹلی میں ایک شخص سال میں 400 کے قریب پلاسٹک بیگ استعمال کرتا ہے۔ شاپنگ سینٹرز میں یہ تھیلے مفت فراہم کئے جاتے تھے اور لوگ اِن کا بے تحاشا استعمال کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ تھیلے گلی کوچوں میں اڑتے، درختوں سے لٹکتے یا پھر ندی نالوں میں بہتے نظر آتے تھے۔ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ WWF سے وابستہ حیاتیاتی ماہر ایوا آلیسی کہتی ہیں، ’’اطالوی باشندے اپنے کلاسیکی ’بُسٹا‘ یعنی پلاسٹک بیگ کے رَسیا ہیں۔ اٹلی کا ہر شہری سال میں پلاسٹک کے بنے اوسطاً 400 تھیلے استعمال کرتا ہے۔ یورپ میں استعمال اور تیار ہونے والے تمام پلاسٹک بیگز کا پچیس فیصد صرف اطالوی استعمال کرتے ہیں۔‘‘

Spanien Tourismus Strand Müll Abfall Flash-Galerie

سمندری لہریں سمندر میں پھینکے جانے والے پلاسٹک کے تھیلوں کو بہا کر واپس ساحلوں پر لے آتی ہیں

گویا یورپ میں استعمال کے لئے چین، تھائی لینڈ اور ملائیشیا سے جو 100 ارب پلاسٹک بیگ درآمد کئے جاتے ہیں، اُن میں سے ایک چوتھائی صرف اٹلی میں ہی استعمال ہو رہے تھے۔

صنعتی شعبے کی جانب سے مزاحمت کے باوجود ہفتہ یکم جنوری سے یہ پابندی ملک بھر میں نافذ کر دی گئی ہے۔ اٹلی میں تحفظ ماحول کے علمبردار گروپوں نے اِس پابندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ نئے سال سے اطالوی صارفین کو کس قسم کے تھیلے دستیاب ہو سکیں گے، اِس بارے میں ایک اطالوی سپر مارکیٹ کے نمائندے جیان لُوکا پیانکا کہتے ہیں، ’’اب ہمارے پاس مختلف طرح کے تھیلے ہوں گے۔ کاغذ، سوتی کپڑے یا پولیسٹر سے بنے ہوئے بیگ، جنہیں ایک سے زیادہ مرتبہ استعمال میں لایا جا سکے گا۔ پھر ہمارے پاس گتے کے ڈبے ہوں گے، جن میں بوتلیں اور شاپنگ کا بھاری سامان لے جایا جا سکتا ہے۔‘‘

100 Jahre Einkaufstüte

یورپ میں سالانہ ایک سو ارب پلاسٹک بیگ چین، تھائی لینڈ اور ملائیشیا وغیرہ سے درآمد اور استعمال کئے جاتے ہیں

رائے عامہ کے جائزوں کے نتائج کی روشنی میں دیکھا جائے تو اطالوی عوام کی بھی ایک بڑی تعداد نے اِس پابندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک اطالوی خاتون لارا چیوٹی کا کہنا تھا، ’’مَیں اِس پابندی کے حق میں ہوں۔ مَیں اُن تمام پلاسٹک بیگز کو دیکھ کر پریشان ہو جاتی ہوں، جنہیں سمندری لہریں واپَس ساحلوں تک لے آتی ہیں۔ حیاتیاتی طور پر یہ تھیلے گل سڑ کر ختم نہیں ہو سکتے۔ اِنہیں دیکھ کر گھِن آتی ہے۔ ہر شخص کی طرف سے انفرادی سطح پر کیا جانے والا ایک روزانہ عمل اِس صورتِ حال کو بدلنے میں بہت مدد دے گا۔‘‘

اٹلی کی خاتون وزیر ماحول سٹیفانیہ پرسٹیجیاکومو نے اِن تھیلوں پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ ’یہ آلودگی کے خلاف جنگ میں ایک کلیدی قدم ہے اور چیزوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کے حوالے سے یہ ہم سب کو اور زیادہ ذمہ دار بنائے گا‘۔ پرسٹیجیاکومو نے کہا کہ حکومت عوام میں شعور بیدار کرنے کی ایک مہم شروع کر رہی ہے، جس کے تحت ایسے تھیلوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، جو قدرتی اور ایسے مادوں سے بنے ہوں گے، جنہیں ری سائیکل کرتے ہوئے پھر سے استعمال میں لایا جا سکے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے نئے تھیلے نہ صرف استعمال میں آسان اور ماحول دوست ہوں گے بلکہ فیشن کے تقاضوں کے مطابق بھی ہوں گے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس