1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یکم اگست کو پاکستانی پارلیمان نیا وزیراعظم منتخب کرے گی

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد پاکستانی پارلیمان منگل کو نیا قائد ایوان منتخب کرے گی۔ منگل یکم اگست کو ہونے والی رائے شماری کے لیے شاہد خاقان عباسی کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ وہ عبوری وزیراعظم ہوں گے۔

پاکستان کے پہاڑی علاقے مری سے تعلق رکھنے شاہد خاقان عباسی کو پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے ممکنہ طور پر پنتالیس روز کے لیے قائد ایوان منتخب کیا جائے گا۔ وہ شہباز شریف کے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے کے بعد اس منصب سے سبکدش ہو جائیں گے اور پھر شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم بنائے جائیں گے۔

پاکستان کے آئندہ ’عبوری وزیر اعظم‘ شاہد خاقان عباسی کون ہیں؟

عبوری وزیر اعظم کے طور پر شاہد خاقان عباسی کی نامزدگی

نواز شریف کی نااہلی کے بعد مستقبل کا پارٹی منظر، مشاورت جاری

شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی سابق فوجی ڈکٹیٹر ضیا الحق کی کابینہ کے وزیر تھے اور وہ اوجڑی کیمپ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے شامل تھے۔

پاکستانی صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اپنی صوبائی نشست سے مستعفی ہو جائیں گے۔ وہ لاہور کے اُس حلقے سے الیکشن لڑیں گے، جو نواز شریف کے نا اہل ہونے کے بعد خالی ہوا ہے۔ یہ حلقہ این اے 120 لاہور تھری ہے۔ اس حلقے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ڈاکٹر یاسمین راشد ہیں، جو پہلے بھی اسی حلقے میں نواز شریف کے خلاف امیدوار رہ چکی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں شاہد خاقان عباسی کے مدِ مقابل متفقہ امیدوار لانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا اشارہ بھی سامنے آیا ہے۔

پاکستانی اور سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعت سامنے آئی ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے شیخ رشید احمد کو شاہد خاقان عباسی کے سامنے امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اُن کی حمایت کے لیے رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب یہ واضح ہے کہ قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ نون کو اپنا وزیراعظم منتخب کرانے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہو گا۔ نواز شریف کی سیاسی جماعت کے اتحادیوں سمیت اراکین کی تعداد 220 سے زائد ہے جبکہ اپوزیشن اگر متحد ہو جائے تو اُس کے کُل اراکین 114 بنتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 340 ہے مسلم لیگ نون کے اراکین کی تعداد 188 ہے۔ شاہد خاقان عباسی کو کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہوں گے، جو ان اعداد و شمار کی روشنی میں اُن کی آسان کامیابی کا واضح اشارہ دیتے ہیں۔

DW.COM