1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یکجہتی ریفریجریٹرز‘ سے جو چاہیں لے جائیں

ارجنٹائن میں ضرورت مند افراد اب کھانے پینے کی اشیا گھروں سے باہر رکھے ریفریجریٹرز سے حاصل کر سکتے ہیں۔

ملازمتوں میں کٹوتی اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کا ارجنٹائن میں ایک دلچسپ حل نکالا گیا ہے۔ یعنی اب ضرورت مند افراد کھانے پینے کی اشیا گھروں سے باہر رکھے ریفریجریٹرز سے بآسانی اور باعزت طور پر حاصل کر سکتے ہیں۔

ایسے ریفریجریٹرز کو ’سماجی' یا ’یکجہتی‘ ریفریجریٹرز کا نام دیا گیا ہے۔

ارجنٹائن کے جنوبی شہر’توکومان‘ میں ایک ریستوران کے مالک لوئس پونڈال کا کہنا ہے، ’’میں یہ دیکھ دیکھ کر بیزار ہو چکا تھا کہ کس طرح کھانے کو ضائع کیا جاتا ہے اور پھر کچھ ہی دیر بعد لوگ کوڑے کے ڈھیر میں سے اسی کھانے کو چن رہے ہوتے ہیں۔۔۔ تب میں نے خود سے سوال کیا، کیوں نہ یہی کھانا ان ضرورت مند افراد کو باوقار طریقے سے فراہم کیا جائے۔‘‘

نام نہاد ’سماجی‘ یا ’یکجہتی‘ ریفریجریٹرز، جن میں لوگ ضرورت مندوں کے لیے کھانا رکھ دیتے ہیں، یورپی مالی بحران کے دوران حالیہ سالوں میں اسپین اور جرمنی میں آزمائے جا چکے ہیں۔

اب یہ رحجان لاطینی امریکا کے ملک ارجنٹائن تک پہنچ گیا ہے۔

پونڈال نے اس کام کا آغاز اس سال فروری میں کیا تھا اور ان کا کہنا ہے کہ اب ملک بھر میں ایسے 50 کے لگ بھگ فرج استادہ ہیں۔

پونڈال کے مطابق، ’’ایک جگہ تو مویشویوں کے ایک ڈاکٹر نے پالتو جانوروں کی خوراک کے لیے بھی ایک فرج رکھ دیا ہے۔‘‘

مویشیوں کی بے شمار چراگاہوں سے مالامال ارجنٹائن، دنیا کے خوراک پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن کرنسی کی قدر میں 40 فی صد گراوٹ کے بعد ارجنٹائن کے لوگوں کے لیے تنخواہوں میں گزارہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

’آپ کو کوڑے میں کھانے کی اشیا تلاش کرتے ہوئے صرف بھکاری ہی نظر نہیں آئیں گے بلکہ ان میں خوش پوش تنخواہ دار افراد بھی شامل ہیں۔‘‘ پونڈال نے بتایا، ’’ خوراک کا حصول کافی مشکل ہو گیا ہے۔‘‘

ارجنٹائن کی کیتھولک یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق

40 ملین افراد کی آبادی پر مشتمل ملک کا 34.5 ملین حصہ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔

ارجنٹائن میں ’سماجی ریفریجریٹرز‘ کو ریستورانوں سے باہر بنی گزرگاہوں پر رکھا گیا ہے۔ ان میں سے ایک صدارتی محل کے سامنے واقع مرکزی پلازہ دی مایو اسکوائر میں بھی موجود ہے۔ ساتھ ہی ایک پلے کارڈ پر یہ عبارت درج ہے، ’’جو ضرورت ہے لے جائیں‘‘۔

دن کے وقت کھلی فضا میں رکھے اور رات کو لکڑی کی الماری میں بند ہو جانے والے اس فرج کا انتظام و انصرام ایک فلاحی تنظیم ریڈ سولیڈاریا چلا رہی ہے جبکہ مقامی ریستوران فرج میں پہلے سے پکا ہوا کھانا محفوظ کر دیتے ہیں۔

اگرچہ ارجنٹائن نے سن 2001 کے معاشی بحران کے دوران ایک قومی فوڈ بینک قائم کیا تھا لیکن کئی فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ خوراک مہیا کرنے کے منصوبے اس لیے نہیں چلا سکتا کیونکہ حکومت کی جانب سے ایسے قوانین و ضوابط کی کمی ہے جو انہیں اس کا مجاز بنائے۔

DW.COM