1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’یو این میں خواتین کے لئے ایک ادارہ‘

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم اپنے چار ذیلی اداروں کو یکجا کرکے ’یو این ویمن‘ کے نام سے نئے ادارے کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

default

اس نئے ادارے کا مکمل نام ادارہ برائے جنسی برابری و با اختیار خواتین ہے۔ اس سے قبل عالمی ادارے میں ڈویژن برائے ترقی ء خواتین نامی ادارہ 1946ء سے مصروف عمل تھا جبکہ دیگر ضم ہونے والے اداروں میں خواتین کی ترقی و بہبود سے متعلق تحقیق و تربیت کا ادارہ، صنف سے متعلق خصوصی مشیر کا دفتر اور یو این ترقیاتی فنڈ برائے خواتین شامل ہیں۔

نیا ادارہ اگلے سال جنوری سے عملی طور پر کام کا آغاز کردے گا۔ اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے ایک نائب سیکریٹری جنرل کے ذمہ ہوگی۔

جنرل اسمبلی کے صدر علی عبدالسلام نے، جب جمعہ کو 192رکن ممالک کی جانب سے متفقہ طور پر اس قرار داد کی منظوری کا اعلان کیا، تو ایوان تالیوں سے گونج اٹھا۔

Warteschlange der Erdbebenopfer

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول خواتین کے حقوق کے لئے اب زیادہ طاقتور آواز اٹھائی جاسکے گی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول خواتین کے حقوق کے چار اداروں کو ایک چھتری تلے جمع کرنے سے عالمی طور پر خواتین اور جنسی برابری کی زیادہ طاقتور آواز اٹھائی جاسکے گی۔

اس قرار داد کی منظوری کے لئے گزشتہ چار سال سے کوششیں کی جارہی تھیں، جس میں یورپی یونین کا کردار نمایاں رہا ہے۔

عالمی ادارے کے رکن ممالک نے اس نئے ادارے کے لئے ابتدائی طور پر کم از کم پانچ سو ملین ڈالر کے فنڈ کے قیام کا عزم ظاہر کیا ہے۔ نیو یارک میں مقیم ہیومن رائٹس واچ نے اس قدم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ میں خواتین کے حقوق کی وکیل ماریانا مولمان کے بقول اقوام متحدہ سے فنڈنگ اور پالیسی سازی کی ٹیبل پر نشست ملنے سے خواتین کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اس نئے فیصلے سے اب خواتین کو فیصلہ سازی میں برابر کا حصہ ملے گا۔

Human Rights Watch Logo

ہیومن رائٹس واچ نے فیصلے کو سراہاں ہے

ایک اور بین الاقوامی فلاحی ادارے ایڈز فری ورلڈ کی جانب سے جاری بیان میں اقوام متحدہ کے اس قدم پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نئے ادارے کے انتظامی معاملات سے جڑے بعض خدشات بھی اجاگر کئے گئے ہیں۔

ایڈز فری ورلڈ کے مطابق ’یو این ویمن‘ کی نگرانی کرنے والے نائب سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا طریقہ ء کار واضح نہیں کیا گیا جبکہ ابتدائی فنڈ بھی کم از کم ایک ارب ڈالر ہونا چاہیے تھا۔ اس ادارے نے خبردارکیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ نئے نام سے انہی چار پرانے اداروں کی طرز پر کام ہوتا رہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM