1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

یوگنڈا میں وبائی زرد بخار سے 45 افراد ہلاک

کمپالا حکومت کے جاری کردہ تازہ ترین بیان سے انکشاف ہوا ہے کہ یوگنڈا میں گزشتہ سات ہفتوں کے دوران زرد بخار میں مبتلا ہو کر موت کا شکار ہونے والوں کی تعداد کم از کم 45 رہی۔

default

یوگنڈا غربت، سیاسی عدم استحکام اور وبائی بیماریوں کی زد میں ہے

اطلاعات کے مطابق مشرقی افریقی ملک یوگنڈا کے شمال میں واقع نو اضلاع میں زرد بخار کی وباء پھیل چکی ہے اور اس عفونت کا شکار کم از کم 174 لوگ ہوئے ہیں۔ کمپالا حکام نے جمعہ کو ایک رپورٹ جاری کی، جس میں نومبر کے اوائل سے لے کر اب تک زرد بخار کا شکار ہو کر لقمہء اجل بننے والوں کی تعداد کم از کم 45 بتائی گئی ہے۔

زرد بخار دراصل ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بڑی علامات تیز بخار، بھوک کا نہ لگنا اور قے آنا ہیں۔ زرد بخار کی شدت اور مرض کے زیادہ بڑھ جانے کی صورت میں اکثر مریضوں کے منہ، ناک اور معدے سے خون آنے لگتا ہے۔ افریقی ممالک میں زرد بخار کے خلاف ٹیکے لگانے کی بڑے پیمانے پر ایک مہم کا آغاز اکتوبر میں ہوا تھا۔

عالمی ادارہء صحت کے مطابق افریقی ممالک میں زرد بخار کے وائرس نے تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور یہ وباء محض چھوٹے علاقوں اور قصبوں ہی میں نہیں بلکہ بڑے شہروں میں بھی پھیل سکتی ہے اور اس کے خطرات کافی زیادہ ہیں۔

10.03.2010 DW-TV FIT UND GESUND Neurodermitis Fieber

زرد بُخار کی علامات میں سے ایک تیز بُخار اور قے کا آنا ہے

ان خطرات کے پیش نظر ویکسینیشن یا زرد بخار کے خلاف ٹیکے کی مہم تین افریقی ممالک، بنین، سیرا لیئون اور لائبیریا میں سب سے پہلے شروع کی گئی۔

عالمی ادارہء صحت کے ماہرین کے مطابق اس بخار کی تشخیص کا عمل خاصا مشکل ہوتا ہے، اس لئے اس سے بچنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہترین احتیاطی تدبیر یہی ہو سکتی ہے کہ زرد بخار کے خلاف تیار کی جانے والی ویکسین یا ٹیکہ پیشگی لگوا لیا جائے اور اس مہم کو تیز رفتاری سے بہت پھیلا دیا جائے۔ ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال در لاکھ سے زائد انسانوں پر زرد بخار کا وائرس حملہ آور ہوتا ہے اور انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ان میں سے تقریباً تین ہزار افراد ہر سال ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور امریکی ممالک میں پایا جاتا ہے اور اس مہلک بیماری کا خاتمہ اب تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس