1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

یوکرائن۔ یورپی یونین سربراہ ملاقات

یوکرائن، یورپی یونین میں شمولیت پر زور دے رہا ہے۔جورجیا پر روسی حملے سے پہلے وہ یہ خواہش ظاہر کر چکا ہے۔ تاہم کاوکیشیا جنگ کے بعد یوکرائن اب زیادہ سہم گیا ہے۔ اس لئے یورپی یونین کی رکنیت میں اسکی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے۔

default

یہاں کے زیادہ تر سیاستدان، خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، یورپی یونین کی رکنیت کے حق میں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا ملک روس اور یونین کے درمیان ایک بفر زون کی حیثیت اختیار کر جائے۔ بالخصوص یہاں کے عوام یورپی یونین کر رکنیت کواقتصادی فواہد کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جبکہ کاروباری اداروں کے سربراہ یورپی منڈیوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

تاہم پیرس میں یورپی یونین اوریوکرائن کی سربراہی کانفرنس کے بعد یوکرائن کی رکنیت کا مسئلہ اور پیچھے چلا گیا ہے۔ پولینڈ، چیک ریپبلک، با لٹک ریاستوں، سویڈن اور برطانیہ کے نزدیک یوکرائن کو رکنیت دینے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم جرمنی، فرانس اور دیگر رکن ممالک اس بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ پیرس اجلاس کا پیغام یہ ہے کہ یوکرائن، یورپی یونین کے مزید قریب تو آ سکتا ہے لیکن رکنیت کے بارے میں اس کے ساتھ کوئی نظام الاوقات طے نہیں کیا جا سکتا۔

اختتامی اعلامیے میں شراکت اور تعاون کے پیشکش کے علاوہ اور کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ پرانی باتوں ہی کو دہرایا گیا ہے۔ جس میں یوکرائنی باشندوں کے لئے ویزے کے حصول میں آسانیاں پیدا کرنا، فری تجارتی ذون کی تشکیل، خارجہ اور سلامتی کی پالیسیوں میں گہرا اشتراک عمل وغیرہ شامل ہے۔

پیرس اجلاس میں فرانس کے سربراہ نکولاس سارکوزی نے یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے اگر یوکرائن کو کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائیتو اس کی وجہ سمجھ میں آ سکتی ہے۔ جارجیا تنازعہ کی وجہ سے یورپی یونین کے روس کے ساتھ تعلقات میں پہلے ہی رخنہ پڑ چکا ہے۔ چنانچہ یوکرائن کو رکنیت کا یقین دلا کر یورپی یونین روس کو مزید اشتعال نہیں دلانا چاہتی۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یوکرائن اس وقت سیاسی لحاظ سے عدم استحکام سے دوچار ہے۔ اور یہ صورت حال ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔