1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

یوکرائن روس کے خلاف مزید یورپی اقدامات کے لیے سرگرم

یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو کی کوشش ہے کہ یورپی یونین کو روس کے خلاف مزید سخت اقدامات کے لیے رضامند کر سکیں۔ پیٹرو پوروشینکو اسی تناظر میں یورپی یونین کی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

ایک ایسے موقع پر جب امریکا میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا عندیہ دے چکے ہیں، یوکرائن کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں یوکرائنی صدر پیٹرو پوروشینکو کی کوشش ہے کہ یورپی رہنماؤں کو روس کے خلاف مزید سخت اقدامات پر مائل کیا جا سکے۔

پیٹرو پوروشینکو نے جمعے کے روز یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک اور یورپی کمشین کے صدر ژان کلود ینکر سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائنی شہریوں کی یورپی یونین میں ویزا فری انٹری کے لیے کییف حکومت کو بدعنوانی کے خلاف مزید سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ مزید سیاسی اصلاحات کرنا ہوں گی۔

پیٹرو پوروشینکو کی کوشش ہے کہ کریمیا کا علاقہ یوکرائن سے چھیننے اور مشرقی یوکرائن میں باغیوں کی مدد کرنے کے تناظر میں یورپی یونین روس کے خلاف اپنی پابندیوں کو مزید سخت بنائے، کیوں کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ یوکرائن کو روس کے خلاف حاصل امریکی تعاون کم ہو سکتا ہے۔

یوکرائنی وزیرخارجہ پاولو کلمکِن کا کہنا ہے کہ پوروشینکو اور یورپی یونین کے دو اہم ترین عہدیداروں کے درمیان ان ملاقاتوں میں مشرقی یوکرائن میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں، روسی جارحیت اور کریمیا کے علاقے پر روسی قبضے جیسے موضوعات زیربحث آئیں گے۔

Ukraine Militärparade 25. Jahrestag Unabhängigkeit (Reuters/G. Garanich)

پیٹرو پوروشینکو چاہتے ہیں کہ یورپی یونین روس کے خلاف مزید اقدامات کرے

ان کا مزید کہنا تھا، ’’ہمیں ہر حال میں مِنسک امن معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے روس پر دباؤ میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس کے لیے ہمیں اپنے یورپی دوستوں اور امریکا کے نمائندوں سے مدد درکار ہو گی۔‘‘

گزشتہ برس فروری میں جرمنی اور فرانس کی ثالثی میں مِنسک امن معاہدے طے پایا تھا، جس میں روس، مشرقی یوکرائن کے باغیوں اور کییف حکومت کا متاثرہ علاقوں میں قیام امن کے لیے ایک روڈ میپ دیا گیا تھا، تاہم ابتدا ہی سے یہ معاہدہ مسائل کا شکار ہے اور فریقین وقفے وقفے سے ایک دوسرے پر  اس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے دکھائی دیے ہیں تاہم مجموعی طور پر اس معاہدے کے بعد یوکرائن کے مشرقی علاقوں میں تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

مغربی ممالک کا الزام ہے کہ روسی حکومت مشرقی یوکرائن میں باغیوں کی عسکری مدد کر رہی ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال سے جاری اس مسلح تنازعے میں اب تک دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان مغربی الزامات کو ماسکو حکومت مسترد کرتی ہے۔